تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 81
پس بڑی بات یہ ہے کہ قوم کی عورتیںکَوَاعِبَ اَتْرَابًا کی مصداق ہوں۔کواعب کے لفظ سے مسلمان عورتوں کی ذاتی جوانی اور لفظ اتراب سے قومی جوانی کی طرف اشارہ کَوَاعِب کا لفظ ذاتی جوانی پر دلالت کرتا ہے اَور اَتْرَاب کا لفظ قومی جوانی پر دلالت کرتا ہے۔اَتْرَاب کا لفظ بھی بتا رہا ہے کہ اس جگہ روحانی معنے ہی زیادہ موزون ہیں کیونکہ جنّت کے متعلق اَتْرَاب کے لفظ میں کوئی حکمت نہیںہو سکتی۔یہ لفظ دنیا سے ہی تعلق رکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہی قوم ترقی کر سکتی ہے جس کی ساری عورتوں کا دینی معیاربلند ہو۔وہ جواں ہمت اور حوصلہ مند ہوں۔وہ مصائب اور مشکلات کی پرواہ کرنے والی نہ ہوں۔وہ دین کے لئے ہر قسم کی قربانی پر تیار رہنے والی ہوںوہ جرأت اور بہادری کی پیکر ہوں اور وہ اپنے اخلاص اور اپنے جوش اور اپنی محبت میں مردوںسے پیچھے نہ ہوں۔یہ معنے ایسے لطیف ہیں کہ میرے نزدیک اپنی ذات میں اس بات کے مستحق ہیںکہ ان معنوں کو بار بار بیان کیا جائے۔ان پر زور دیا جائے اور انہیں اپنی تقریر وتحریر میں بتکرار لایاجائے تا کہ معلوم ہو کہ اسلام عورتوں کو کس بلند مقام پر پہنچانا چاہتا ہے اور عورتوں میں بھی دینی روح ترقی کرے۔اگلے جہان میں اگر ساری عورتیں ایک ہی عمر کی ہوں تو اس میں کوئی خاص لطف کی بات نہیں۔وہ غرض کَوَاعِب کہہ کر ہی پوری ہو سکتی تھی۔اَتْرَاب کا لفط زائد طور پر لانا بتا رہا ہے کہ یہ بات خصوصیت سے اس دنیا سے تعلق رکھنے والی ہے۔وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ۰۰۳۵ اور چھلکتے ہوئے پیالے۔حل لغات۔اَلْکَاْسُ: اَلْاِنَاءُ یُشْرَبُ فِیْہِ۔وہ برتن جس میں کوئی چیز پی جاتی ہے۔وَقِیْلَ مَادَامَ الشَّرَابُ فِیْہِ وَاِلَّا فَھِیَ زُجَاجَۃٌ وَاِنَاءُ وَقَدْحٌ اور بعض کہتے ہیں کہتے ہیں کہکَاْسٌ پینے کے برتن کو اس وقت کہیں گے جبکہ اس میں پینے کی چیز بھی موجود ہووگرنہ خالی برتن عربی زُبان میں زُجَاجَۃ اور اِنَاء اور قَدْح کہلاتا ہے۔لفظ کَاْسٌ مؤنث ہے۔(اقرب) دِھَاق دھاق کا لفظ جب کَاْس کے لئے آئے تو اس کے معنے بھرے ہوئے کے ہوتے ہیں۔کہتے ہیں اَلدِّھَاقُ مِنَ الْکُؤُوْسِ: اَلْمُمْتَلِئَۃُ (اقرب) تو کَاْسًا دِھَاقًا کے معنے ہوئے اُنہیں ایسے پیالےملیں گے جو لبالب بھرے ہوں گے۔