تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 80
دشمن پر فتح پائی۔(فتوح الشام للواقدی وقعۃ الیرموک تحریض النساء للمسلمین علی القتال) پس كَوَاعِبَ اَتْرَابًاکے مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عورتوں کاایسا لشکر دیا جو دوسری قوموں کے مردوںسے بھی بالا تھا اور پھر ان عورتوں میں سے بھی ایک سے ایک بڑھ کر تھی۔یہ نہیں کہ حضرت عائشہ ؓ تو بہادر ہوں اور حضرت زینب ؓ نہ ہوں یا حضرت زینب تو بہادر ہوں مگر اسماء بنت ابی بکرؓ بہادر نہ ہوں بلکہ حضرت عائشہ ؓ بھی کَوَاعِبَ اَتْرَابًا کا مصداق تھیں اور حضرت زینب ؓبھی کَوَاعِبَ اَتْرَابًا کامصداق تھیں اور اسماء بنت ابی بکرکَوَاعِبَ اَتْرَابًا کا مصداق تھیں بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں ہند جیسی عورت جو کسی زمانہ میں شدیددشمنِ اسلام رہ چکی تھی اس میں بھی یہ روح کام کر رہی تھی اور انہوں نے ایسی قربانیاں کیںجن کی کوئی حد ہی نہیں۔اسی جنگ کا یہ واقعہ ہے کہ عیسائی لشکر کی طرف سے جب مسلمانوں پر بہت زیادہ دبائو پڑاتو مقابلہ کرتے کرتے اسلامی لشکر بالکل تھک گیا۔ایک رات اسلامی لشکر کے کمانڈر انچیف جو حضرت ابو عبیدہ تھے چکّر لگانے کے لئے نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ اسلامی لشکر کے اردگرد دو آدمی پھر رہے ہیں اُنہیں شبہ پیدا ہوا کہ دشمن کے آدمی جاسوس کے طور پر نہ آئے ہوںچنانچہ وہ آگے بڑھے اور انہوں نے آواز دی کہ تم کون ہو!اس پر حضرت زبیر ؓ آگے بڑھے اُن کے ساتھ اُن کی بیوی اسماء بنت ابی بکر بھی تھیں۔انہوں نے کہا کہ آج مسلمان چونکہ سخت تھکے ہوئے تھے اس لئے میں اور میری بیوی دونوں پہرہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے (فتوح الشام للواقدی۔وقعۃ الیرموک ھزیمۃ الروم ) یہ کَوَاعِبَ اَتْرَابًا کی کیسی شاندار مثال ہے اور کس طرح ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ ؓ کی عورتوں میں بھی وہی جزبۂ فدا کاری پایا جاتا تھا جو خود صحابہ کے اندر موجود تھا۔پھر یہ نہیں کہ یہ جز بہ کسی خاص خاندان کی عورتوں سے مخصوص ہو بلکہ ہر عورت اسی جزبہ سے سرشار تھی اور یہی روح اُس میں کام کرتی دکھائی دیتی تھی ورنہ دنیا کے لحاظ سے کَوَاعِب کے کوئی اور معنے بنتے ہی نہیں۔جوان لڑکی پانچ سات سال میں ہی جوانی کی عمر گزار دیتی ہے اور پھروہ کَوَاعِب میں شامل نہیں رہتی۔مگر یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ متقیوں کو ایسی عورتیں ملیں گی جو کَوَاعِب ہی رہیں گی۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں روحانی معنے مراد ہیںجسمانی نہیں۔بے شک اگلے جہان کے لحاظ سے جسمانی معنے ہی ٹھیک ہیں کیونکہ جنت میں اگر بوڑھے داخل ہوں یا بڑھاپا آ جائے تو پھر جنت جنت نہیں رہتی۔لیکن جب ہم اس آیت کو دنیا پر چسپاں کریں گے تو اس کے معنے ایسی عورتوں کے ہوں گے جو جوانی والی طاقتیںا پنے اندر رکھتی ہوںکیونکہ دنیا میں انسانی جسم بہرحال نڈھال ہو جاتا ہے۔اور عمر کی زیادتی کے ساتھ بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔لیکن روحانی طاقتیں اگر انسان ان کو ترقی دینا چاہے تو کمز ور نہیں ہو سکتیں۔