تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 70

میرے دشمنوں کو ناکام ونامراد کیا اُس خدا کی نصرت پر مجھے آج بھی یقین ہے اور آج جب مُجھے اُس نے طاقت بخشی ہے مَیں یہ بے شرمی نہیں کر سکتا کہ اُس کے مظلوم بندوںکی مدد نہ کروں۔اگر تم سارے اُس کو برا بھی منائو تب بھی مَیں اُن کو یہاں سے نہیں نکالوں گا۔چنانچہ سردارانِ قریش جو تحفے لائے تھے ان کو وہ واپس کر دیئے گئے اور وہ ناکام ونامراد واپس لوٹے (تاریخ خمیس ھجرۃ ابی بکر الی الحبشۃ) غرض اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا (یعنی متقیوں کو کامیابی اور نجات کا مقام ملنے والا ہے)کا نہایت ہی شاندار نظارہ صحابہ ؓ نے وہاں دیکھا اور انہوں نے اس خدائی وعدہ کو پورا ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں کو ایسی جگہ دے گاجہاں مکروہات سے یہ لوگ نجات پا جائیں گے اور آرام اور راحت کو دیکھیں گے۔پھر دوسرا نظار ہ اس کا مدینہ میںنظر آیا جبکہ مسلمان وہاں گئے اور اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے لوگوں کی توجہ مسلمانوں کی طرف پھیر دی۔ابتداء میں صرف چند لوگ مکہ میں حج کے لئے آئے تھے کہ انہیں رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خبر پہنچی اور وہ آ پ پر ایمان لے آئے۔دوسرے سال بعض اور لوگ مدینہ کے حاجیوں میں سے ایمان لے آئے۔اور انہوں نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں تیسرے سال ایک وفد ۷۲آدمیوں پر مشتمل بھیجا جس نے یہ اقرار کیا کہ مدینہ میں آپؐ پر اور آپ کے ساتھیوں پر اگر کوئی دشمن حملہ کرے گاتو ہم اُس سے لڑیں گے اور آپ کی حفاظت کریں گے۔چنانچہ اس معاہد ہ کے مطابق رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ ؐکے صحابہؓ مدینہ میں تشریف لے گئے (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زیر عنوان بدء اسلام الانصار) حبشہ میں جو مسلمان ہجرت کر کے گئے تھے وہ بھی اس دوران میںواپس آ کر مدینہ پہنچ گئے۔اسی لئے وہ اصحاب الہجرتَین کہلاتے ہیں یعنی دو ہجرتیں کرنے والے۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر) کیونکہ انہوں نے حبشہ کی طرف بھی ہجرت کی اور مدینہ کی طرف بھی۔پھر مدینہ کے لوگوں نے جس جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور مہاجرین کی حظاظت کی یہ تاریخ کا ایک شاندار ورق ہے اَور قرآن کریم کی اس پیشگوئی کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت ہے کہ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا یقیناً ہم متقیوں کو وہ جگہ دیں گے جہاں وہ مکروہات سے بچ جائیں گے اور کامیابیوں کا مونہہ دیکھیں گے۔چنانچہ پہلا مَفَازَ اللہ تعالیٰ نے حبشہ کو بنایا اوردوسرا مَفَاز اللہ تعالیٰ نے مدینہ کو بنایا۔ابتدائی سالوں کی تمام اسلامی تاریخ اسی آیت کی تشریح ہے۔حبشہ کا سفر اور مدینہ کے ابتدائی ایام کی تاریخ سب کی سب اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا والی پیشگوئی کے پورا ہونے کا ایک نہایت ہی روشن اور زبردست ثبوت ہے۔اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًا میں کی ہوئی پیشگوئی کے مطابق مسلمانوں کے لئے دوسرا نجات کا مقام دوسرے معنے اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا کے یہ ہیں۔کہ متقیوں کوہم کامیاب و بامراد کریں گے۔یہ معنے بھی