تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 2
تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں رہتا کہ سورتوں کا جوڑ ایک دوسری سے ملتا ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا بار بار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں) عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ۚ۰۰۲ یہ (لوگ) کس (چیز) کے بارے میں ایک دوسرے سے (بطریق انکار) سوال کر رہے ہیں حل لغات۔عَمَّاصل میںعَنْ مَا ہے نونؔ چونکہ میمؔ میں مدغم ہو جاتا ہے اس لئے عَمَّا ہو گیا۔عربی زبان کا یہ محاورہ ہے کہ حروف جارہ کے بعد بالعموم مَااستفہامیہ کے الف کو حذف کر دیتے ہیںاور آخر مِیم پر فتحہ بطور علامت کے رکھ دیتے ہیں (اقرب زیر حرف ’’م‘‘) مثلاً کہتے ہیں۔فِیْمَ۔لِمَ۔بِمَا۔اِلَامَ۔عَلٰی مَ۔عَمَّ۔بلکہ عام قاعدہ یہ ہے کہ وزن کے لحاظ سے جہاں الف ظاہر کرنے کا فائدہ ہو وہاں الف لاتے ہیں ورنہ بالعموم اس کو حذف کر دیتے ہیں۔یعنی جہاں توازن میں یا بولنے میں زیادہ سہولت الف کے لانے میں ہو اُسی جگہ الف ظاہر کرتے ہیں ورنہ نہیں۔یَتَسَآءَلُوْنَ اَلتَّسَاءُ لُ کے معنے ہوتے ہیں ایک دوسرے سے پوچھنا۔اور جب تَسَأَلَ الْقَوْمُ کہیں تو معنے ہوں گے سَأَ لَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا (اقرب ) یعنی آپس میں ایک دوسرے سے انہوں نے پوچھا۔اور یَتَسَآءَ لُوْنَ کے معنے ہوں گے آپس میں وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں۔پس عَمَّ یَتَسَآءَ لُوْنَکے معنے ہوں گے آپس میں ایک دوسرے سے وہ کس کے بارے میں پوچھتے ہیں یا کس کے بارے میں وہ ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں۔تفسیر۔سوال کی مختلف اغراض ایک دوسرے سے سوال مختلف وجوہ کی بنا پر کئے جاتے ہیں۔کبھی سوال زیادتی ٔ علم کے لئے ہواکرتا ہے یعنی ایک انسان دوسرے انسان سے علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔مثلاً کسی کو راستہ معلوم نہیں تو وہ دوسرے سے پوچھتا ہے فلاں رستہ کدھر کو جاتا ہے یا پوچھتا ہے فلاں شہر کی طرف کون سا رستہ جاتا ہے۔یا کسی لفظ کے معنے معلوم نہ ہوں تو وہ دوسرے سے پوچھتا ہے فلاں لفظ کے کیا معنے ہیں۔اور یا پھر سوال امتحان کے لئے ہوا کرتا ہے یعنی سوال کرنے والا جانتا تو ہے کہ جس لفظ کے متعلق وہ پوچھ رہا ہے اس کے کیا معنے ہیں