تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 514
جہاں تک مَیں سمجھتا ہوں نولڈکے کا یہ دعویٰ خلافِ عقل ہے۔کیونکہ چند آیات کے ذرا لمبا ہو جانے سے اُن کے بعد میں نازل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں نکل سکتا۔آخر قرآن کریم کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ سارے کا سارا اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔اور نولڈکے اور اُس کے ساتھیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ سارا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا ہے۔بہرحال کسی تیسرے شخص کا تو یہاں سوال ہی نہیں۔اب اگر یہ بات مان لی جائے کہ قرآن سارے کا سارا خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے تو یہ کہنا کہ مدینہ میں خدا تعالیٰ لمبی آیتیں نازل کر سکتا تھا لیکن مکّہ میں نہیں حماقت ہے اور اگر اس نظریہ کو لے لیا جائے کہ تمام سورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بنائی ہوئی ہیں تب بھی نولڈکے اور دوسرے مستشرقین کا یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ میں لمبی آیتیں نہیں بنا سکتے تھے لیکن مدینہ میں بنا سکتے تھے بےہودہ بات ہے۔کسی حکمت کے ماتحت اگر عام طور پر مکّی آیتیں چھوٹی ہیں تو اِس کے یہ معنے نہیں کہ اِن آیات کو بنانے والا لمبی آیتیں ضرورت کے موقع پر نہیں بنا سکتا تھا۔پس عقلی طور پر یہ دعویٰ بالکل باطل ہے۔واقعات کے لحاظ سے بھی یہ بات درست ثابت نہیں ہوتی اس لئے کہ مومنات کا لفظ جس پر وہیری نے بنیاد رکھی ہے اور کہا ہے کہ یہ صرف مدنی سورتوں میں آیا ہے مکّی سورتوں میں بھی آتا ہے۔چنانچہ سورۂ نوح کی آیت ہے رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا(نوح:۲۹) یہاں مومنات کا لفظ بھی آیا ہے اور یہ آیت بھی لمبی ہے۔گویا دونوں باتیں اِس آیت میں پائی جاتی ہیں۔اور سورۂ نوح وہ سورۃ ہے جس کے مکی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔فتح البیان کا مصنّف لکھتا ہے۔اِنَّھَا مَکِّیَّۃٌ قَالَ الزُّبَیْرُ نَزَلَتْ بِمَکَّۃَ یعنی سورۂ نوح مکّی ہے اور حضررت زبیرؓ کہتے ہیں کہ یہ مکّہ میں نازل ہوئی تھی۔روح المعانی کے مصنف لکھتے ہیں مَکِّیَّۃٌ بِالْاِتِّفَاقِ اِس پر سب اتفاق کرتے ہیں کہ سورۂ نوح مکّی ہے۔نولڈکے جو سورۂ بروج کی بعض آیتوں کے لمبا ہونے سے یہ استدلال کرتا ہے کہ وہ مدنی ہیں وہ بھی سورۂ نوح کے متعلق لکھتا ہے کہ یہ پہلے پانچ سال کی سورتوں میں سے ہے۔اور وہیری جو مومنا ت کے لفظ کی وجہ سے سورۂ بروج کی آیات کو مدنی قرار دیتا ہے وہ بھی سورۂ نوح کے متعلق لکھتا ہے کہ یہ ساتویں سال نبوّت کی ہے۔پس نولڈکے اور وہیری کی اپنی شہادتوں سے یہ بات ثابت ہے کہ مکّی سورتوں میں مومنات کا لفظ بھی آتا ہے اور اس کی بعض آیات لمبی بھی ہیں۔پس معلوم ہوا کہ سورۂ بروج کے متعلق جو انہوں نے استدلال کیا تھا وہ محض ایک ڈھکونسلہ تھا اور ڈھکونسلہ چونکہ یاد نہیں رہتا اِس لئے کِسی موقع پر کچھ نتیجہ نکال لیااور کسی موقع پر کچھ۔بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے متعلق مستشرقینِ یورپ جس چیز کو دلیل قرار دیتے ہیں وہ محض ظنّ اور تخمین ہوتی