تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 513

سُوْرَۃُ الْبَرُوْجِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ بروج۔یہ سورۃ مکی ہے۔وَھِیَ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ اِثْنَتَانِ وَ عِشْرُوْنَ اٰیَۃً اور اِس کی بسم اللہ کے سوا بائیس آیات ہیں۔سورۃ بروج مکی ہے یہ سورۃ بھی پہلی چند سورتوں کے تسلسل میں ہے اور مکّی سورۃ ہے۔مفسرین لکھتے ہیں کہ لَاخَلَافَ فِیْ مَکِّیَّتِھَا اس کے مکّی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔لیکن انگریز مصنفین نے اس میں ایک شبہ پیدا کیا ہے۔نولڈکے جرمن مستشرق اِسے زمانۂ اوّل کے پہلے دَور یعنی ابتدائی اَڑھائی سال کے اندر کی قرار دیتا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی اُس نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ مَانَقَمُوْا سے لے کر ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْکَبِیْرُ تک بعد کی ہیں۔بعد کی آیات سے یہ مراد نہیں کہ کسی اور نے ملا دی ہیں۔بلکہ اس کے نزدیک مدنی زندگی میں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملائی ہیں۔وہ کہتا ہے اِن آیتوں کی عبارت مکّی عبارتوں سے مختلف ہے۔کیونکہ یہ آیتیں باقی آیتوں سے لمبی ہیں اور مدنی سورتوںسے ملتی ہیں۔مستشرقین کا مکی اور مدنی آیات میں تمیز کرنے کا ایک بےہودہ طریق وہیری اس پر ایک اور بات زائد کرتا ہے۔وہ کہتا ہے اِس سورۃ میں مومنات کا لفظ آیا ہے۔جیسا کہ آتا ہےاِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ اور مومنات کا لفظ مدنی سورتوں میں ہی مروّج ہوا ہے مکّی سورتوں میں نہیں۔اس طرح نولڈکے کے خیالات کی وہ تصدیق کرتا ہے۔نولڈکے کا خیال ہے کہ آٹھویں آیت سے لے کر گیارھویں آیت تک مدنی زمانہ کی آیات ہیں۔جہاں تک مکّی اور مدنی آیتوں کا سوال ہے ہمیں اِس بحث سے کوئی تعلق نہیں کہ کوئی آیت مکّی ہے یا مدنی۔ہمارے نزدیک ہر آیت خدا تعالیٰ کی نازل کی ہوئی ہے اور ہر آیت ہمارے لئے قابلِ عمل ہے خواہ وہ مکّہ میں نازل ہوئی ہو یا مدینہ میں۔اس لئے ان کے مکی یا مدنی ہونے سے ہمارے نزدیک کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔اور اگر منکرین اسلام کے نظریہ کو لو تو اُن کے نزدیک ہر آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بنائی ہوئی ہے۔اس لئے اُنہیں بھی اِس بحث سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا کہ کوئی آیت مکّی ہے یا مدنی۔لیکن یہ بتانے کے لئے کہ مستشرقینِ یورپ اسلام کے متعلق بعض دفعہ کیسی رکیک اور بے بنیاد باتیں بیان کرتے ہیں۔مَیں اس اعتراض پر بحث کرتا ہوں۔