تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 499

بالکل صحیح ہے۔(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ۱۶۔۲۵ سورۃ الانشقاق) مجاہد کی دلیل یہ ہے کہ چونکہ آیت میںرات کا لفظ بعد میں ہے۔اس لئے شفق سے مراد دن ہے وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ چونکہ یہاں مقابلہ ہے رات سے۔اِس لئے شفق کا اشارہ دن کی طرف ہونا چاہیے۔مگر یہ دلیل محض عقلی ہے۔اور مجاہد نے واضح کر دیا ہے۔کہ وہ کسی لغت پر اس کی بنیاد نہیں رکھ رہے بلکہ ایک عقلی دلیل پیش کر ر ہے ہیں حالانکہ عقلًا رات کے معنی کرتے ہوئے بھی شفق کا لفظ درست ہے۔اس لئے کہ شفق کا وقت وہ ہوتا ہے۔جب دن کی روشنی کچھ باقی ہوتی ہے۔پس تقابل پھر بھی موجود ہے۔چنانچہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ میں شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں اس وقت کو جب کہ دن جاتا رہے گا۔مگر اس کی روشنی کچھ کچھ باقی رہے گی۔اور میں شہادت کے طور پرپیش کرتا ہوں رات کو جب اس کی تاریکی پھیل جائے گی۔پس یہاں تقابل موجود ہے۔اس لئے خلاف لغت شفق کے معنی دن کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔وَسَقَہٗ وَسَقَہٗ یَسِقَہٗ وَسَقاً کے معنی ہوتے ہیں جَمَعَہٗ وَحَمَلَہٗ کسی چیز کو جمع کیا۔اور اس کو اٹھا لیا وَسَقَ الْبَعِیْرَ کے معنی ہوتے ہیں حَمَّلَہٗ الْوَسْقِ اس پر وسق لا د دیا (اقرب) وسق کے معنی کسی جانور کی طاقت کے مطابق بوجھ کے ہیں۔چنانچہ وَسْقُ الْبَعِیْرِ کے معنی ہوتے ہیں حِمْلُ البَعِیْرِ یعنی ایک اونٹ کا بوجھ (اقرب) بعض نے وسق کے وزن بھی بتائے ہیں۔چنانچہ عام طور پر ساٹھ صاع کا ایک وسق سمجھا جاتا ہے۔لیکن اہل حجاز ۳۲۰ رطل کا اور اہل عراق ۴۸۰ رطل کا ایک وسق قرار دیتے ہیں۔وَسَقَ الْبَعِیْرَ وَسِیْقًا کے معنی ہوتے ہیں سَاقَۃُ اونٹ کو چلایا۔مفسرین لکھتے ہیں کہ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاہِدٍ وَالْحَسَنُ وَقَتَادَۃُ وَمَا وَسَقَ وَمَا جَمَعَ یعنی ابن عباس مجاہد حسن اور قتادہ کہتے ہیں کہ وَمَا وَسَقَ کے معنی وَمَا جَمَعَ کے ہیں یعنی جو اس نے جمع کیا۔قتادہ اس کی تفسیر کرتے ہیں وَمَا جَمَعَ مِنْ نَجْمٍ وَدَابَّۃٍ جو کچھ بوٹیاں اور جانور وغیرہ یا ستارے ہیں ان کو جمع کیا وَقَالَ عِکْرِمَۃُ واللَّیْلِ وَمَا وَسَقَ یَقُوْلُ مَاسَاقَ مِنْ ظُلْمَۃٍ۔عکرمہ اس کے معنی چلانے کے لیتے ہیں۔یعنی جو ظلمت تھی اس کو وہ دھکیل کر لے آئی۔سائق وہ ہوتا ہے جو پیچھے سے دھکّا دیتا ہے۔اور قائد وہ ہوتا ہے جو آگے سے کھینچتا ہے پس وَمَاوَسَقَ کے یہ معنی ہوں گے۔کہ جس اندھیرے کو وہ دھکا دے کر آگے لے آئے۔اِتَّسَقَ اِتَّسَقَلغوی طور پر وَسَقَ کا باب افتعال ہے۔اور اِتَّسَقَ الْاَمْرُ کے معنی ہوتے ہیں اِنْتَظَمَ وَاسْتَویٰ کام ٹھیک ہو گیا منظم ہو گیا اور درست ہو گیا۔(اقرب) مفردات میں لکھا ہے۔اَلْاِتِّسَاقُ اَ لْاِجْتِمَاعُ