تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 498
کھاتا۔اور مراد یہ لینا کہ میں تو اس کی گواہی نہیں دلاتا۔کیونکہ اس کی گواہی ظاہر ہے۔ایک بے معنی فقرہ ہو جاتا ہے۔پس حقیقت یہی ہے کہ یہاں لا زائدہ ہے۔یعنی تاکید کے لئے آیا ہے اور محاورۂ عرب کے عین مطابق ہے اور اس بارہ میں کسی لمبے تردد کی ہمیںضرورت نہیں۔ہاں جب نافیہ ہو تو ضرور ہے کہ اس سے پہلے کوئی مضمون بیان ہوا ہو۔خواہ اس سورۃ میں خواہ اس سے پہلے کی سورۃ میں جس کے تسلسل میں اگلی سورۃ کا مضمون بیان کیا گیا ہو۔اَلشَّفَقُ شَفَقٌ مصدر بھی ہے اور شَفَقٌ کے معنی ہیں اَلْحُمْرَۃُ فِی الْاُفُقِ مِنَ الْغُرُوْبِ اِلَی الْعِشَاءِ الْاٰخِرَۃِ اَوْ اِلٰی قَرِیْبِھَا اَوْ اِلٰی قَرِیْبِ الْعَتَمَۃِیعنی شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو افق میں ہوتی ہے۔غروب شمس کے وقت سے لے کر عشا کے وقت تک یعنی وہ عشا جسے ہم اپنی زبان میں عشا کہتے ہیں (عربی زبان میں شام کوبھی عشا کہا جاتا ہے۔اسی وجہ سے وہ عشاء کو عشاء الاخریٰ کہتے ہیں) اَوْاِلٰی قَرِیْبِ الْعتَمَۃِ یا عشاء کے قریب تک فَاِذَا ذَھَبَ قِیْلَ غَابَ الشَّفَقُ جب وہ سرخی جاتی رہے تو کہتے ہیں شفق غائب ہو گئی۔اصمعی کہتے ہیں سَمِعْتُ بَعْضَ الْعَرَبِ یَقُوْلُ عَلَیْہِ ثَوْبٌ کَاَنَّہٗ الشَّفَقُ وَکَانَ اَحْمَرُ یعنی میں نے بعض عربوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ اس پر میں نے ایسا کپڑا دیکھا جو شفق کی مانند تھااور وہ کپڑا جس کی نسبت انہوں نے یہ فقرہ کہا سرخ رنگ کا تھا۔پس معلوم ہوا کہ شفق سُرخی پر دلالت کرتا ہے اور صحاح میں علامہ جوہری لکھتے ہیں کہ اَلشَّفَقُ بَقِیَّۃُ ضَوْئِ الشَّمْسِ وَحُمْرَتُھَا فِیْ اَوَّلِ الَّیْلِ اِلٰی قَرِیْبٍ مِنَ الْعَتَمَۃِ شفق سورج کی بقیہ روشنی اور اس کے ساتھ اس کی سُرخی کو کہتے ہیں۔جو ابتداء شام سے اندھیرا ہونے کے قریب تک چلی جاتی ہے۔(اقرب) بعض تفاسیر میں لکھا ہے رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعُبَادَۃَ ابْنِ الصَّامِتِ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَ شَدَّادِ ابْنِ اَوْسٍ وَابْنِ عُمَرَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ وَمَکْحُوْلٍ وَبَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَزَانیّ وَبُکَیْرِ بْنِ الْاَشِحّ وَمَالِکٍ وَابْنِ اَبِیْ ذِئْبٍ وَعَبْدِ الْعَزِیْز بْنِ اَبِی سَلْمَۃَ الْمَاجِشُوْن اَنَّھُمْ قَالُوْا الشَّفَقُ اَلْـحُمْرَۃُ۔یعنے شفق اَلْـحُمْرَۃُ کا نام ہے۔اور مجاہد کہتے ہیں۔کہ قَبْلَ طَلَوْعِ الشَّمْسِ شفق سورج چڑھنے سے پہلے وقت کا نام ہے۔وَاَھْلُ اللُّغَۃِ بَعْدَ غَرُوْبِھَا اور اہل لغت کہتے ہیں کہ یہ بعد غروب الشمس کا نام ہے۔اسی طرح مسلم میں یہ حدیث آتی ہے۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو وَعَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّہُ قَالَ وَقْتُ الْمَغْرِ بِ مَالَمْ یَغِبِ الشَّفَقَ کہ مغرب کا وقت اس وقت تک ہے۔جب تک شفق غائب نہ ہو جائے یہ حدیث لکھ کر صاحب ابنِ کثیر لکھتے ہیں فَفِیْہِ دَلِیْلٌ اَنَّ مَاقَالَ اَصْحَابُ اللُّغَۃِ صَحِیْحٌ وَالشَّفَقُ حُمْرَۃٌ بَعْدَغُرُوْبِ الشَّمْسِ۔اس میں سے یہ دلیل نکلتی ہے کہ اصحاب لغت کا یہ خیال کہ غروب شمس کے بعد افق میں جو سُرخی رہ جاتی ہے۔اس کا نام شفق ہے