تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 497

عبارت ظاہر ی کے لحاظ سے اس کی آیات الگ الگ ہیں۔پس عبارت ظاہری کے لحاظ سے ایک سورۃ کو دوسری سورۃ کا حصہ نہیں سمجھا جا سکتا۔اگر اس اعتراض کو درست تسلیم کر لیا جائے۔تو لا کے اس استعمال پر جو سورتوں کے شروع میں ہوا ہے اعتراض پڑے گا۔مگر ان قسموں پر اعتراض نہیں پڑ سکتا۔جو درمیان میں آجاتی ہیں۔جیسے یہاں ہے۔(تفسیر فتح البیان زیر آیت لا اقسم بیوم القیامۃ) اِس جگہ یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ اس خلش کی بنیاد ایک ذہنی وسوسہ پر ہے۔اور وہ یہ کہ لا کو نافیہ سمجھا گیا ہے۔لا نافیہ کی صورت میں ہمیں بے شک اس بات کی احتیاج ہے۔کہ اس سے پہلے کوئی مضمون نکالیں جس کی نفی لا کرتا ہو۔لیکن زائدہ کی صورت میں یہ سوال کہ ابتداء میں آیا ہے۔عقلی طور پر درست معلوم نہیں ہوتا۔کشاف میں لکھا ہے کہ لا نافیہ کا استعمال قسم سے پہلے عربوں کے کلام اور شعروں میں عام ہے اور اس کا مقصد مضمون قسم کی تاکید کرنا ہوتاہے۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ھِیَ رَدٌّ لِکَلَامِھِمْ وَعَقِیْدَتِھِمْ کَاَنَّہُ قِیْلَ لَیْسَ الْاَمْرُ کَمَا ذَکَرْتُمْ اُقْسِمُ بِکَذَا وَکَذَا (فتح القدیر للشوکانی سورۃ القیامۃ آیات ۱ تا ۱۵)یعنی لاء نفی کے معنوں میں ہی آیا ہے۔اور مخالف کے کلام اور اس کے عقیدہ کی تردید میں آیا ہے۔اور مفہوم یہ ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اس طرح معاملہ نہیں۔میں اپنی بات کی شہادت کے لئے فلاں بات پیش کرتا ہوں۔چنانچہ فرّاء اور اکثر نحویوں کا قول ہے کہ یہ لا زائدہ نہیں بلکہ نافیہ ہے۔اور وہ اس کی مثال بھی دیتے ہیں کہ عام عربی بول چال میں کہتے ہیں لَا وَاللّٰہِ ا ور جب وہ یہ الفاظ کہتے ہیں تو یہ معنی نہیںہوتے۔کہ میں اللہ کی قسم نہیں کھاتا بلکہ اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ مَیں تمہاری بات ردّ کرتا ہوں۔اور اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔کہ میری بات سچی ہے بعض کہتے ہیں کہ ہوتا تو نفی کے لئے ہے۔لیکن ضروری نہیں کہ مضمونِ قسم کی نفی کے لئے ہو۔بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس چیز کی قسم کھا کر میں اس کا پورا حق ادا نہیں کرتا۔اور اس کی پوری عظمت ظاہر نہیں کرتا۔ظاہر ہے کہ یہ معنی خواہ کتنے بڑے آدمی نے کئے ہوں۔بہرحال لغو اور غلط ہیں۔کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ کی قسموں کا ذکر ہے۔پس یہ معنی کرنے کہ خدا فرماتا ہے میں قسم تو کھاتا ہوں پرقسم کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ایک کھلی ہوئی غلطی ہے۔الحمدللہ کے مستحق وجود کے متعلق یہ کہنا کہ وہ حق اد ا نہیں کر سکتا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔بعض نے کہا ہےکہ نفیِ قسم ہی مراد ہے۔اور مراد یہ ہے کہ مَیں اس چیز کی قسم نہیں کھاتا۔اور مقدر یہ مضمون ہوتا ہے۔کہ یہ امر ظاہر ہے۔اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن یہ معنی بالبداہت باطل ہیں۔(فتح القدیر للشوکانی سورۃ القیامۃ آیات ۱ تا ۱۵) کیونکہ جس امر کو ظاہر کرنا ہے وہ مقسم علیہ ہے۔اور وہی مطلوب ہے اور جس چیز کی قسم کھانی ہے۔وہ تو گواہ ہے۔اور یہ کہنا کہ مَیں تو اس کی قسم نہیں