تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 496
اچھی طرح سے دیکھ رہا تھا۔یعنی ہر عمل انسان کا اور ہر عمل قوم کا خدا کی نگاہ کے نیچے ہوتا ہے۔جب وہ عمل اسے بھولا ہوا ہوتا ہے۔خدا کو وہ یاد ہوتا ہے۔اس لئے خواہ قومی اعمال پر کتنا ہی پردہ پڑا ہوا ہو۔نتیجہ حقیقت کے مطابق نکلتا ہے۔کبھی خلاف نہیں نکلتا۔فرماتا ہے ان لوگوں کے لئے بھی ایک دن تنزل کے سامان پیدا ہو جائیں گے۔یہاں وُہ لوگ مراد ہیں۔جو اس زمانہ کے ظہور کے مقابل پر کھڑے ہوں گے۔اور یہ بتایا گیا ہے کہ بظاہر اِس آسمانی اور زمینی تبدیلی کے وقت کفر طاقتور ہو گا۔اور دیکھنے والے یہی سمجھیں گے کہ کفر مغلوب نہیں ہو سکتا۔مگر اندرونی طور پر اس میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہو چکی ہوں گی۔کہ وُہ آسمانی نظام کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکے گا۔فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ۰۰۱۷ پس یوں نہیں (جو یہ سمجھتے ہیں بلکہ) میں شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں سورج کے غروب ہونے کے بعدکی سرخی کو وَ الَّيْلِ وَ مَا وَسَقَۙ۰۰۱۸وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ۰۰۱۹ اور رات کو بھی اور اسے بھی جسے وہ سمیٹ لیتی ہے۔اور چاند کو (بھی) جب وُہ تیرھویں کا ہو جائے۔حَلّ لُغَات۔لَاۤ اُقْسِمُ میں لفظ لا کے متعلق بحث یہاں جو لا آیا ہے اس کے متعلق نحویوں میں اختلا ف ہے۔ابوعبیدہ اور ایک جماعت مفسرین کی کہتی ہے۔کہ یہ لا زائدہ ہے۔اور مراد یہی ہے کہ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ یعنی میں شفق کو بطور شہادت پیش کرتا ہوں لا کے استعمال کے متعلق ادیبوں میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ یہ ایسے موقعہ پر زائد استعمال ہوتا ہے۔اور زَیَادَتُھَا جَارِیَۃٌ فِیْ کَلَامِ الْعَرَبِ۔اس کی یہ زیادت کلام عرب میں عام رائج ہے۔چنانچہ وہ مثال کے طور پر قرآن کریم کی ان دو آیات کو پیش کرتے ہیں۔(۱)مَامَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ (اعراف:۱۳)تجھے کس نے منع کیا کہ سجدہ نہ کرے حالانکہ یہاں مراد یہ ہے کہ تو سجدہ کرے (۲)اسی طرح آتا ہے لِئَلَّا یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ(الحدید:۳۰)تاکہ اہل کتاب کو معلوم نہ ہو حالانکہ مراد یہ ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہو ساتھ ہی یہ لوگ کہتے ہیں۔اِنَّمَا تَزَّادُ فِیْ وَسْطِ الْکَلَامِ لَا فِیْ اَوَّلِہٖ یعنی لا درمیان کلام میں زائد آتا ہے۔ابتدا کلام میں زائد نہیں آتا۔مگر بعض مفسرین اس کے بارہ میں یہ کہتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کے کلام پر یہ قاعدہ لگتا ہے۔قرآن کریم پر نہیں لگتا۔کیونکہ سب قرآن ایک ہی سورۃ کے حکم میں ہے۔اِس لئے جہاں بھی لا آئے گا وسط کلام ہی سمجھا جائے گا۔اس پر معترضین نے یہ کہا ہے کہ مضمون کے لحاظ سے بیشک سارا قرآن کریم ایک ہی حکم میں ہے مگر