تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 1
سُورَۃُ النَّبَاِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ نبا۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ اَرْبَعُوْنَ اٰیَۃً دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْھَا رُکُوْعَانِ اور بسم اللہ کے علاوہ اس کی چالیس آیتیں ہیں اور دو رکوع ہیں سورۃ النبا کی وجہ تسمیہ یہ سورۃ النَّبَا کہلاتی ہے کیونکہ اس میں اصل ذکر ایک نبأ عظیم کا ہے۔اس سورۃ میں بعث بعد الموت، قرآن کریم یا غلبۂ اسلام کا ذکر ہے یا یوں کہو کہ ان تینوں کا ذکر ہے۔اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے تعلق یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں یومِ فصل کی طرف خصوصیت سے توجہ دلائی گئی ہے چنانچہ سورۃ الْمُرْسَلٰتکے پہلے رکوع میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِاَيِّ يَوْمٍ اُجِّلَتْ۔لِيَوْمِ الْفَصْلِ۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ(المرسلت:۱۳ تا ۱۵) یعنے کس دن کے لئے وعدہ دئیے گئے ہیں فیصلے کے دن کے واسطے اور تُوکیا جانے کہ و ہ فیصلے کا دن کیا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعْنَاکُمْ وَالْاَوَّلِیْنَ (المرسلت:۳۹)یعنے یہ فیصلے کا دن ہے کہ جس کے لئے ہم نے تم کواور تم سے پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔گویا ایک یومِ فصل کا اس جگہ پر ذکر تھا۔اس سورۃ میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۔یعنی یقیناً یہ فیصلے کا دن ایک مقرر وقت پر آنےوالا ہے۔تو گویا سورۃ الْمُرْسَلَاتاور سورۃ النَّبا دونوں کا باہمی تعلق یومِ فصل کے ذریعہ سے ہے پہلی سورۃ میں دو دفعہ یومِ فصل کا بیان ہے اور اس سورۃ میں ایک دفعہ یومِ فصل کے ذکر کو دہرایا گیا ہے یہ بتانے کے لئے کہ ان دونوں میں اشتراکِ مضمون پایا جاتا ہے۔اُس سورۃ میں بھی یومِ فصل کا بیان تھا اور اِ س سورۃ میں بھی یومِ فصل کا بیان ہے۔سورۃ نباء کا پہلی سورۃ سے تعلق سورۃ النَّباابتدائی مکّی سورتوں میں سے ہے(فتح البیان سورۃ النبا ابتدائیہ)۔اس کی ترتیب کے متعلق نولڈک NOLDEKEجو مشرقی علوم کے متعلق جرمنی کامشہور پروفیسر ہے لکھتا ہے کہ اس سورۃ کے مضمون سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ سورۃ الْمُرْسَلَات کے ساتھ ہی اُتری ہے(تفسیر القرآن از وہیری تعارف سورۃ النباء) یہ ردّ ہے اُن مستشرقین یورپ کا جو کہا کرتے ہیںکہ قرآن کریم کی سورتوںمیں کوئی خاص ترتیب نہیں۔لمبی سورتیں پہلے رکھ دی گئی ہیں اور چھوٹی سورتیں آخر میں رکھ دی گئی ہیں(THE KORAN by J۔M Rodwell pg۔2 preface )۔اِن لوگوں کی سمجھ میں بھی جہاں جہاں کوئی بات آجاتی ہے وہاں انہیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ سورتوں کا مضمون آپس میں ملتا ہے۔اور گو وہ سارے قرآن کو ایک باترتیب کلام نہ مانیں مگر کسی کسی جگہ انہیں بھی یہ