تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 492
مصیبت پر بھی گھبرا جاتا ہے لیکن جو شخص محنتی ہو اور مشقت برداشت کرنے کا عادی ہو۔اس پر خواہ مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑے۔وُہ اس کو آسانی سے برداشت کر لیتا ہے۔اس آیت کے یہ معنی بھی ہیں کہ خدا ایسے مومن سے آسان معاملہ کرے گا۔مگر اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ وُہ خواہ کس مصیبت میں ڈالا جائے۔وہ اسے آسان معلوم ہو گی۔جن لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے اپنا وطن چھوڑا۔اپنی عزت چھوڑی اپنا مال چھوڑا۔اپنے بیوی بچے چھوڑے۔ان کو بعد میں کون سی ایسی مصیبتیں پیش آئی تھیں۔جنہوں نے ان کو دکھ میں ڈال دیا ہو۔بعد میں جو بھی مصیبت آئی۔وُہ انہیں بالکل آسان معلوم ہوئی۔اور اسے انہوں نے ہنسی خوشی برداشت کر لیا۔غالبؔ شرابی تھا۔لیکن اس کی زبان پر حکمت کی بہت سی باتیں جاری ہوئیں ہیں معلوم ہوتا ہے اس کے دل میں ضرور نیکی تھی۔وہ ایک مقام پر کہتا ہے ع مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آسان ہو گئیں (دیوان غالب صفحہ ۱۱۰ ) جب انسان اپنے آپ کو تنعّم اور عیش کا عادی بنا لے تو جو حساب بھی آتا ہے۔اسے سخت معلوم ہوتا ہے۔لیکن اگر شدائد برداشت کرنے کا انسان عادی بن جائے تو پھر اسے حساب آسان نظر آتا ہے۔دو قسم کے ابتلاء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ دو قسم کے ابتلاء ہوتے ہیں۔ایک ابتلاء وہ ہوتا ہے۔جس میں بندے کو اختیار ہوتا ہے۔کہ وہ اس کے متعلق اگر کوئی آرام اور سہولت کا پہلو تلاش کر سکتا ہو تو کر لے لیکن ایک ابتلاء وہ ہوتا ہے۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور جس میں سخت مشکل پیش آتی ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے۔جیسے نماز کے لئے وضو کرنا پڑتا ہے۔نماز کے لئے وضو کرنا ضروری ہوتا ہے۔لیکن اگر سردی کا موسم ہو۔تو انسان کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اگر چاہے تو پانی کو گرم کر لے۔یہ وہ ابتلاء ہے جس کے جاری کرنے کا اختیار اللہ تعالیٰ نے انسان کے اختیار میںدیا ہے۔لیکن دوسری قسم کا ابتلاء جسے اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔اس کے صدمہ کو آسان کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔جیسے کہ کسی عزیز کی موت۔ایسے صدمے تبھی برداشت ہو سکتے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو تلخ زندگی کا عادی بنائے اور عیش و آرام کی زندگی کو چھوڑ دے۔اور جب انسان ایسا کرلے تو اسے ہر چیز آسان معلوم ہوتی ہے۔(ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۶۳۸) وَ يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا۔اور وہ اپنے اہل کی طرف خوش خوش واپس آئے گا۔یہ آیت بھی صاف طور پر بتا رہی ہے کہ اس میںدنیا کے حساب کا ہی ذکر ہو رہا ہے۔کیونکہ اگلے جہان میں جب حساب ہو گا۔اس وقت تو کسی کو