تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 479

سُوْرَۃُ الْاِنْشِقَاقِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ الانشقاق۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ خَمْسٌ وَّ عِشْرُوْنَ اٰیَۃًدُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ اور اس کی بسم اللہ کے علاوہ پچیس آیتیں ہیں۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں) سورۃ الانشقاق مکی ہے سورۃ الانشقاق مکی ہے۔مضمون اور عبارت اور روایات سے ابتدائی زمانہ کی معلوم ہوتی ہے۔اس کا مضمون سورۃ تکویر۔انفطار۔اور تطفیف کے ساتھ ملتا ہے۔سورۃ انشقاق کا تعلق پہلی سورتوں سے اِ س سورۃ کا تعلق پہلی سورتوں سے ظاہر ہے اپنے ساتھ کی سورۃ سے اِس کا تعلق یہ ہے کہ اُس میں فرمایا تھا هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ۔یعنی کفار جو سمجھتے تھے کہ ان کی بے اعتدالیوں کا بدلہ نہ ملے گا۔جب ان کی شان وشوکت خاک میں مل جائے گی۔اور مسلمان عروج حاصل کریں گے۔تو ان کفار کو کہا جائے گا۔لو! دیکھ لو اپنی تباہی۔کیا تمہیں اپنی بے اعتدالیوں کا بدلہ ملا یا نہیں۔اس وقت کفر کی طاقت ٹوٹ جائے گی۔اور کفر کی تباہی کے ساتھ یہ لازمی ہوتا ہے۔کہ ایمان کی ترقی ہو۔کیونکہ روحانی اور جسمانی دنیا میں کبھی خلائے کامل نہیں ہوتا۔جب بھی ایک چیز جاتی ہے۔اس کی جگہ دوسری چیز لے لیتی ہے۔اگر کفر جائے گا تو اس کی جگہ ایمان لے لے گا۔اور اگر ایمان جائے گا تو اس کی جگہ کفر لے لے گا۔چونکہ پچھلی سورۃ میںکفر کی تباہی کا ذکر تھا۔اس لئے اس کے بعد آنے والی سورۃ میں ایمان کی ترقی کا ذکر فرمایا ہے۔گویا اپنے ساتھ کی تین سورتوں سے جو اس کے ہم معنٰی اور ہم سلسلہ ہیں۔اس کا یہ تعلق ہے کہ ان میں بنیادی مسئلہ کفر کی ترقی اور پھر اس کا انجام تھا اور اس میں بنیادی مسئلہ ایمان کے ظہور کا ہے۔یوں ان پہلی تین سورتوں میں جس طرح آخری زمانہ کا ذکر ہے۔اس سورۃ میں بھی آخری زمانہ کا ہی ذکر ہے۔سورۃ انشقاق اور سورۃ انفطار کا باہمی جوڑ سورۃ تطفیف کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ درحقیقت وہ سورۂ انفطار کے تسلسل میں ہے پس اصل مضمون جو اس سورۃ سے پہلے ہم سمجھیں گے۔وہ سورۂ انفطار کا ہی ہو گا۔