تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 465

اُن کے مونہوں پر لاکھ لگا کر اوپر کارخانہ کی مہر لگی ہوئی ہوتی ہے اسی طرح وہ رحیقِ مختوم ہو گی یعنی اُس کا منہ بند ہو گا اور اُس پر مہر لگی ہوئی ہو گی۔خَتَمَ الزَّرْعَ وَخَتَمَ عَلَیْہِ کے معنے ہوتے ہیں سَقَاہُ اَوَّلَ سَقْیَۃٍ۔اس کو پہلی دفعہ پانی پلایا اور خَتَمَ اللّٰہُ لَہُ الْخَیْرَ کے معنے ہوتے ہیں اَتَمَّہٗ۔اللہ تعالیٰ نے اُس پر خیر کا اتمام کر دیا۔اور خَتَمَ عَلَی قَلْبِہٖ کے معنے ہوتے ہیں جَعَلَہٗ لَا یَفْھَمَ شَیْئًا وَ لَا یَخْرُجُ مِنْہُ شَیْءٌ۔اُسے ایسا بنا دیا کہ نہ وہ کچھ سمجھتا ہے اور نہ اُس کے قلب میں سے کوئی چیز باہر آتی ہے یعنی نہ وہ خود سمجھتا ہے اور نہ دوسرے کو سمجھا سکتا ہے اور خَتَمَ اللّٰہُ لَہُ بِالْـخَیْرِ کے معنے ہوتے ہیں جَعَلَ لَہُ عَاقِبَۃً حَسَنَۃً۔اس کا انجام اچھا کر دیا۔اور کبھی خَتَمَ کی بجائے خَتَّمَ بھی بولتے ہیں جو مبالغہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍ کے یہ معنے ہیں کہ انہیں ایسی خالص شراب پلائی جائے گی جو مختوم ہو گی۔مختوم کےایک معنے یہ ہیں کہ ایسی چیز جو ختم کر دی گئی ہو اور جس کے آخر تک انسان پہنچ جائے۔پس رَحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ کے یہ معنے ہوئے کہ اُن کو ایسی لطیف اور اعلیٰ شراب ملے گی کہ جس کو ملے گی وُہ اُسے آخر تک ختم ہی کر جائے گا چھوڑے گا نہیں یعنی اپنے اپنے ظرف کے مطابق وہ ساری شراب پی جائے گا۔ان معنوں سے ظاہر ہے کہ رحیقِ مختوم سے مراد عام شراب نہیں ہو سکتی۔اسی طرح خِتَامُہٗ مِسْکٌا ور مِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ کے الفاظ کا آنا بتا رہا ہے کہ اس سے دنیوی شراب مراد نہیں ہے بہرحال یہ کوئی ایسی چیز ہے کہ یا تو اُسے اگلے جہان کی طرف منسوب کرنا پڑے گا اور یا اگر اس جہان کی طرف اُسے منسوب کیا جائے تو اس سے مراد کوئی ایسی چیز لینی پڑے گی جو ساری کی ساری پی جائے گی اور جس کا اپنے اپنے ظرف کے مطابق ایک قطرہ تک انسان باقی نہیں چھوڑے۔رحیق سے مراد محبت الٰہی کی شراب میرے نزدیک یہاں رَحِیْق سے مراد محبتِ الٰہی کا نشہ ہے جو قرآن پیدا کرتا ہے۔جس طرح شراب انسان کو مدہوش بنا دیتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کا عشق انسان میں ایک قسم کی وارفتگی پیدا کر دیتا ہے اور اُسے ہر وقت اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھکائے رکھتا ہے۔شاعروں کو دیکھ لو وہ بھی اپنے معشوق کی آنکھ کو میخانہ کہتے ہیں۔کیونکہ جس طرح شراب نشہ پیدا کرتی ہے اسی طرح محبوب کی آنکھ عاشق کو مدہوش بنا دیتی ہے۔پس شعراء نے یہ محاورہ کثرت سے استعمال کر کے بتا دیا ہے کہ شراب سے مرادصرف مادی شراب نہیں ہوتی بلکہ محبت اور عشق کا نشہ بھی شراب کہلا سکتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ۔انہیں شراب محبت پلائی جائے گی۔اس سے مراد قرآن کریم کی تعلیم اور اس کے مضامین یا اُس کی روشنی میں محمد رسول اللہ