تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 461

تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيْمِۚ۰۰۲۵ تُو (اگر اُنہیں دیکھے تو) اُن کے چہروں میں نعمت کی شادابی محسوس کرے گا۔حَلّ لُغَات۔نَضْرَۃٌ۔نَضْرَۃٌکے معنے ہوتے ہیں (۱)نعمت (۲)عیش (۳)غنٰی (۴)وَقِیْلَ الْحُسْنُ وَالرَّوْنَقُ وَاللُّطْفُ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نَضْرَۃٌ کے معنے حُسن، رونق اور لطف کے ہوتے ہیں (اقرب) اسی طرح جو ادیب ہیں انہوں نے تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ کے معنے کئے ہیں بَرِیْقُہٗ وَنَدَاہُ یعنی اس کی چمک اور اس کی تراوت (اقرب) پس تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ کے یہ معنےہوئے کہ تُو پہچانے گا اُن کے مُونہوں سے خدا تعالیٰ کی نعمت کی تازگی یا نعمت کا غناء۔یا نعمت کا حُسن یا نعمت کی رونق یا نعمت کا لُطف۔تفسیر۔تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيْمِکے تین معنے اس آیت کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ نعمتِ الٰہی اُن کے دلوں پر اس طرح نازل ہو گی کہ چہرہ سے خوشی پُھوٹ پُھوٹ پڑے گی۔تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ سے پتہ لگتا ہے کہ یہ نعمت اُن کے دل پر نازل ہو گی اور اس طرح نازل ہو گی کہ اُن کے چہروں سے ظاہر ہو جائے گی اور وہ اُسے چھپا نہیں سکیں گے دنیا میں دو قسم کی باتیں ہوتی ہیں ایک وہ جنہیں چھپایا جا سکتا ہے اور ایک وہ جنہیں انسان چھپا نہیں سکتا بلکہ خود بخود ظاہر ہو جاتی ہیں۔صحابہؓ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ اُن کے چہروں سے پُھوٹ پُھوٹ پڑے گی اور وہ خدا تعالیٰ کی اس نعمت کو لوگوں سے چھپا نہیں سکیں گے۔فیج اعوج کے زمانہ میں مسلمانوں میں بعض ایسے ایسے صوفیاء گزرے ہیں جو دس دس بار ہ بارہ سال تک لوگوں سے خدمت لینے کے بعد اُنہیں دین کی کوئی ایک بات یا معرفت کا کوئی ایک نکتہ بتایا کرتے تھے اس کے مقابلہ میں صحابہؓ کی جو حالت تھی اُس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک صحابی کہتے ہیں اگر تلوار میری گردن پر رکھ دی جائے اور کوئی دشمن مجھے قتل کرنے لگے اور اُس وقت مجھے یاد آ جائے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات مجھے ایسی بھی یاد ہے جو ابھی تک میںنے بیان نہیں کی تو میں اُس کے تلوار چلانے سے پہلے پہلے اس بات کو بیان کر دُوں گا(صحیح بخاری کتاب العلم باب العلم قبل القول والعمل)۔تو ان کو یہ شوق تھا کہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو دنیا میں زیادہ پھیلائیں۔لیکن اور لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اگر ہم نے لوگوں کو اپنا علم بتا دیا تو پھر ہمارا علم ختم ہو جائے گا اور وہ بھی ہمارے برابر ہو جائیں گے۔میں نے جب جلسہ سالانہ پر ذکر الٰہی کے متعلق تقریر کی تو ایک غیر احمدی صوفی جو باہر سے آئے ہوئے تھے