تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 451

بھی شاندار طور پر پایا جاتا تھا، اُن کے اندر توکّل بھی شاندار طور پر پایا جاتا تھا، غرض بیسیوں قسم کے اخلاق اُن میںنمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں اگر تم فلاسفروں کو دیکھو تو ممکن ہے کوئی ایک فلاسفر ایسا نکل آئے جو امین ہو یا جود وسخا کا مادہ اپنے اندر رکھنے والا ہو۔لیکن ایک فلاسفر بھی ایسا نہیں نکل سکتا جو سارے اخلاق کا جامع ہو۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جب تک کوئی اعلیٰ مطمح نظر سامنے نہ ہو۔جب تک کوئی ایسی تصویر سامنے نہ ہو جس کی نقل اتاری جا سکے اُس وقت تک اعمال نہایت محدود دائرہ میں چکّر کھاتے رہتے ہیں اور اُن میں وسعت پیدا نہیں ہو سکتی۔اور جب کسی کے اعمال نہایت تنگ اور محدود دائرہ کے اندر ہوں تو اُس کے عمل میں وسعت پیدا نہیں ہو سکتی اور جب کسی نے اپنے اعمال میں وسعت ہی پیدا نہیں کی تو وہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کو کس طرح دیکھ سکتا ہے وہ شخص جس نے اپنے آپ کو رب نہیں بنایا وہ اپنے رب خدا کو کس طرح پہچان سکتا ہے۔جس نے اپنے آپ کو رحیمؔ نہیں بنایا وہ رحیم خدا کو کس طرح پہچان سکتا ہے۔جس نے اپنے آپ کو رحمن نہیں بنایا وہ رحمن خدا کو کس طرح پہچان سکتا ہے۔جس نے اپنے آپ کو غفور نہیں بنایا، ستار نہیںبنایا، مہیمن نہیں بنایا، وہ غفور اور ستار اور مہیمن خدا کو کس طرح پہچان سکتا ہے اور وہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کو دیکھنے کی اہلیت ہی کس طرح رکھ سکتا ہے۔جس نے خربوزہ نہیں دیکھا وہ خربوزے کو دیکھ کر اُسے پہچان کس طرح کر سکتا ہے وہ تو اُس کی حقیقت معلوم کرنے سے قاصر ہی رہے گا۔ایسی صورت میں جب اُس کا دائرہ اعمال نہایت تنگ ہو گا اور خدا تعالیٰ کی صفات کا انعکاس اُس نے اپنے آئینہ قلب میں پیدا نہیں کیا ہو گا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قیامت کے دن جب خدا تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوں گی وہ اُن کو پہچان نہیں سکے گا بلکہ اندھوں کی طرح کھڑا رہے گا اور اُسے کچھ نظر نہیں آئے گا۔جب وہ اندھا ہونے کی حالت میں قیامت کے دن اٹھے گا تو چونکہ وہ اپنے ذہن میں یہ سمجھا کرتا تھا کہ میں بڑا بصیر ہوں، مَیں بڑا فلاسفر اور مدبّر ہوں اس لئے وہ خدا تعالیٰ سے کہے گارَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِيْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِيْرًا۔کہ میں تو بڑا بصیر تھا، نفسیات کا علم رکھنے والا تھا، مشاہدات پر اپنے علوم کی بنیاد رکھتا تھا، فلسفہ اور سائنس کا ماہر تھا، کتابوں کا دن رات مطالعہ کیا کرتا تھا، کائناتِ عالم کے اسرار پر غور کیا کرتا تھامجھے آج اندھا کیوں پیدا کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى تیرے سامنے اپنے نبی کے ذریعہ ہم نے نشانات و معجزات ظاہر کئے، ہم نے اپنے قادرؔ ہونے کے نشانات ظاہر کئے، اپنے رب ہونے کے ثبوت دئے، اپنے رحیم ہونے کے دلائل دئے، اپنے مالک ہونے کے شواہد مہیّا کئے، اپنے مُحی اور ممیت ہونے کےثبوت پیش کئے مگر تُو نے اُن کی طرف توجہ نہ کی۔تُو ہمارے نبی کو دیکھ کر یہی کہتا رہا کہ یہ لغو باتیں ہیں ایک مُلّا اِن باتوں کو کیا جانے، میں فلاسفر ہوں، میں کینٹؔ اور میں ہیگل ہوں، میں