تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 450

(بنی اسرائیل:۷۳) جو شخص اس دنیا میں خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھتا وہ آخرت میں بھی اُس کو نہیں دیکھے گا اس سے معلوم ہوا کہ جتنے مومن نجات پانے والے ہیں اُن سب کو خدا تعالیٰ نے اپنا دیکھنے والا قرار دیا ہے مگر دنیا میں ہر مومن یہ نہیں کہتا کہ میں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا ہے اس سے معلوم ہوا کہ ایک درجہ رویتِ الٰہی کا محض ایمان لانا ہے۔جب کسی شخص کو ایمان نصیب ہو جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اُسے رویت الٰہی نصیب ہو گئی اور ایمان بغیر خد اتعالیٰ کی صفات کا علم رکھنے کے حاصل نہیں ہو سکتا۔آخر خدا کسی مادی چیز کا نام تو نہیں بلکہ خدا کا نام ہے اس ہستی کا جو ربّ ہے،جو رحمٰن ہے، جو رحیم ہے اور جو مالک یوم الدین ہے اور اسی طرح اور صفاتِ حسنہ سے متصّف ہے۔پس جب کسی نے خدا تعالیٰ کی ربوبیت، اُس کی رحمانیت، اُس کی رحیمیت اور اُس کی مالکیت وغیرہ کو سمجھ لیا اور اس کی دوسری صفات پر یقین رکھا تو اُس کو ایک درجہ روئتِ الٰہی کا نصیب ہو گیا۔پس ایک رویت وہ ہے جو ہر مومن کو نصیب ہوتی ہے خواہ وہ ادنیٰ درجے کا مومن ہو یا اعلیٰ درجے کا، اِس میں کوئی استثناء اور امتیاز نہیں ہے۔پھر سورۂ طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى۔قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِيْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِيْرًا۔قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى(طٰہٰ :۱۲۵ تا ۱۲۷) کہ جو شخص ہمارے ذکر سے اعراض کرتا ہے، ہماری صفات پر غور نہیں کرتا، اُن کا مطالعہ نہیں کرتا، اُس کی زندگی بڑی تنگ زندگی ہوتی ہے۔کیونکہ وسعتِ عمل پیدا ہوتی ہے خد اتعالیٰ کی صفات کی وجہ سے جسے خدا تعالیٰ پر سچا ایمان حاصل ہو اُس کے اندر سخاوت ہوتی ہے، سچائی ہوتی ہے، دیانتداری ہوتی ہے، امانت ہوتی ہے، رأفت ہوتی ہے، محبت ہوتی ہے اور وہ اپنے اِن نیک اعمال میںترقی کرتا چلا جاتا ہے مگر جو صفاتِ الٰہیہ پر ایمان نہ رکھتا ہو اُس کا دائرہ عمل نہایت محدود ہوتا ہے۔درحقیقت دائرہ عمل اعلیٰ مطمح نظر IDEAL سے وسیع ہوتا ہے جب کوئی اعلیٰ مطمح نظر سامنے نہ ہو تو اعمال محدود ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے مقابلہ میں فلاسفروں کے اخلاق بالکل ہیچ ہوتے ہیں اور پھر اُن کے اندر جو تھوڑے بہت اخلاق پائے جاتے ہیں اُن کا دائرہ عمل بھی بہت تنگ ہوتا رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق کو دیکھا جائے یا حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے اخلاق کو دیکھا جائے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اخلاق کو دیکھا جائےتو معلوم ہو گا کہ اُن کے اعمال کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسیع تھا۔اُن کے اندر سچائی بھی شاندار طور پر پائی جاتی تھی، اُن کے اندر امانت بھی شاندار طور پر پائی جاتی تھی، اُن کے اندر سخاوت بھی شاندار طور پر پائی جاتی تھی، اُن کے اندر بشاشت بھی شاندار طور پر پائی جاتی تھی، اُن کے اندر رحم بھی شاندار طور پر پایا جاتا تھا، اُن کے اندر غریبوں کی پرورش کا مادہ بھی شاندار طور پر پایا جاتا تھا، اُن کے اندر انصاف