تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 449
ہے کہ یہاں تین دفعہ کَلَّا کفر کے ذکر کے بعد آتا ہے اور ایک دفعہ کَلَّا مومنوں کے ذکر سے پہلے ہے۔اس میں اس طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ تین جھٹکے عیسائیت کی تباہی کے لئے لگیں گے اور چوتھا جھٹکا اسلام کے قیام کا موجب ہو گا بظاہر جہاں تک عقل کام دیتی ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی جنگِ عظیم ۱۹۱۸ء میں ختم ہوئی پہلا جھٹکا تھا جو عیسائیت کو لگا۔اب دوسری جنگ جو شروع ہے یہ دوسرا جھٹکا ہے اس کے بعد ایک تیسری جنگ عظیم ہو گی جو مغرب کی تباہی کے لئے تیسرا اور آخری جھٹکا ہو گا۔اس کے بعد ایک چوتھا جھٹکا لگے گا جس کے بعد اسلام اپنے عروج کو پہنچ جائے گا اور مغربی اقوام بالکل ذلیل ہو جائیں گی کیونکہ چوتھے کَلَّا کے بعد ہی یہ ذکر آتا ہے کہ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَ۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّيُّوْنَ۔كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ۠۔خدا تعالیٰ سے محجوب ہونے کا مطلب اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ میں یَوْمَئِذٍ سے مراد یُکَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ والا یوم ہی ہے۔فرماتا ہے یہ لوگ اُس دن اپنے رب سے محجوب ہوں گے اس آیت میں رب کا لفظ لاکر اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ربوبیت کا رشتہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ماں اور بچہ میں ہوتا ہے۔بچے کوماں پالتی ہے، دُودھ پلاتی ہے، اُس کی غوروپرداخت کرتی ہے۔اس کی ضروریات کا خیال رکھتی ہے اور اس کو بڑا کرتی ہے۔ربؔ کے بھی یہی معنے ہیں کہ وہ انسان کی جسمانی اور روحانی پرورش کے سامان مہیّا کرتا ہے۔پس جو رب ہوتا ہے وہ بھی اس شخص کے پاس آنے کی کوشش کرتا ہے جس کی وہ ربوبیت کرتا ہے اور جس کی ربوبیت کی جاتی ہے وہ بھی ربؔ کے پاس آنے کی کوشش کرتا ہے۔ماں بھی بچہ سے محبت کرتی ہے اور بچہ بھی ماں سے محبت کرتا ہے پس فرماتا ہے ہمارا اور ان کا رشتہ وہ ہے کہ ہم ان سے محبت کرتے ہیں اور انہیں ہم سے محبت کرنی چاہیے۔مگر باوجود اس رشتہ کے اُنہیں گناہوں سے ایسی وابستگی ہو جائے گی کہ یہ اپنے رب سے محجوب ہو جائیں گے۔محجوب اس کو کہتے ہیں جو پردہ سے کسی دوسری چیز سے روکا گیا ہو اور جو شخص اپنے رب سے محجوب ہو اُس کی بدقسمتی میں تو کوئی شبہ ہی نہیں ہو سکتا پس فرماتا ہے یہ لوگ کیسے بدقسمت ہیں کہ ربوبیت کے رشتہ کے بعد بھی اپنے رب سے یہ اُس دن محجوب رہیں گے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُس دن محجوب ہونے کے کیا معنے ہیں (۱)کیا باقی انسان خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہیں کہ اُن کے متعلق کہا جا ر ہا ہے کہ وہ اپنے رب سے محجوب ہوںگے (۲)دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اُس دن سے پہلے عیسائی خدا تعالیٰ کو دیکھتے تھے کہ فرماتا ہے کہ اُس دن وہ اپنے رب سے محجوب ہوں گے؟ روئیت الٰہی کے درجے اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک روئیتِ قلب کا تعلق ہے ہر انسان جو بے دین نہ ہو خدا تعالیٰ کو دیکھتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى