تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 41

اَیْضًا اَلْقَضَاءُ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ۔نیز فصل کے معنے حق اور باطل کے درمیان فیصلہ ہو جانے کے بھی ہیں (اقرب ) پس یَوْمُ الْفَصْل کے معنے ہوں گے۔ایسا وقت جبکہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا۔مِیْقَاتًا:مِیْقَات کے معنے ہیںاَلْوَقْتُ۔مطلقاً وقت وَقِیْلَ الْوَقْتُ الْمَضْرُوْبُ للشَّیءِ کسی چیز کے لئے مقرر شدہ ہی وقت اَلْوَعْدُ الَّذِیْ جُعِلَ لَہٗ وَقْتٌ نیز اس وعدہ کو بھی مِیْقَات کہہ دیتے ہیں جس کے لئے وقت مقرر کیا جائے۔اس کی جمع مَوَاقِیْت آتی ہے (اقرب) یُنْفَخُ:یُنْفَخُ نَفَخَ سے مضارع مجہول واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اَلنَّفْخُ کے معنے ہیں نَفْخُ الرِّیْحِ فِیْ الشَّیْءِ کسی چیز میں ہوا پھونکنا (مفردات ) پس یُنْفَخُ کے معنے ہوں گے کہ پھونکا جائے گا۔اَلصُّوْرُ: صَارَا الرَّجُلُ یَصُوْرُ صَوْرًا کے معنے ہیں صَوَّتَ یعنی آواز دی۔اور صُوْر اس سینگ کو کہتے ہیں جس میں پھونک مار کر اس کو بجایا جاتا ہے (اقرب) بعض نے اس کو اَلصُّوْرَۃُ کی جمع بھی قرار دیا ہے اور اَلصُّوْرَۃُ کے معنے ہیں۔اَلشَّکْلُ۔شکل۔کُلُّ مَا یُصَوَّرُ مُشَبَّھًا بِخَلْقِ اللّٰہ مِنْ ذَوَاتِ الْاَرْوَاحِ وَغَیْرِھَا۔کسی جاندار یا غیر جاندار کی تصویر اَلنَّوْعُ۔قسم۔الصِّفَۃُ۔صفت (اقرب) پس یَوْمَ یُنْفَخُ فِیْ الصُّوْرِ کے معنے ہوں گے جبکہ صُوْر میں پھونکا جائے گا۔اَفْوَاجًا:اَفْوَاجًافَوْجٌ کی جمع ہے اور فَوْج کے معنے انسانوں کی جماعت کے ہیںیا انسانوں کی وہ جماعت جو تیزی سے گزر رہی ہو (اقرب ) سُیِّرَتْ:سُیِّرَتْ سَیَّـرَ سے مونث مجہول کاصیغہ ہے اور سَیَّرہٗ کے معنے ہیں جَعَلَہٗ سَائِرًا اس کو چلایا۔اور جب سَیَّرَہٗ مِنْ بَلَدِہٖ کہیں تو معنے ہوں گے اَخْرَجَہُ وَاَجْلَاہُ اس کو وطن سے جلا وطن کر دیا (اقرب ) اَلْجِبَالُ:اَلْجِبَالُ اَلْجَبَلُکی جمع ہے اور اَلْجَبَلُ کے معنے ہیں کُلُّ وَتَدٍ لِلْاَرْضِ عَظُمَ وَطَالَ زمین پر اُونچے ٹیلے کو جَبَل کہتے ہیں۔خِلَافُ السَّاحِلِ ساحل کےمخالف مفہوم ادا کرنے کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے یعنی خشکی کا علاقہ۔سَیِّدُالْقَوْمِ وَعَا لِمُھُمْ نیزقوم کے سردار اور عالم کو بھی جَبَل کہتے ہیں (اقرب) پس سُیِّرَتِ الْجِبَالُ کے معنے ہوں گے (۱) جب پہاڑ چلائے جائیںگے (۲)جب قوموں کے سردار اور عالموں کو گھروں سے نکا لا جائے گا۔سَرَابًا: مَاتَرَاہُ نِصْفَ النَّھَارِ مِنِ اشْتِدَادِ الْحَرِّ کَالْمَائِ یَلْصِقُ بِالْاَرْضِ (اقرب) یعنی سَرَاب اس ریتلے میدان کو کہتے ہیں جو دوپہر کے وقت سورج کی شعائوں میں پانی کی صورت میں نظر آتا ہے۔کلیات میں لکھا