تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 429

مَاۤ اَدْرٰىكَ اور مَایُدْرِیْکَ کے اس فرق سے قرآن کریم کی فصاحت کا پتہ چلتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک لغت کا سوال ہے اُس نے دونوں کو ہم معنیٰ قرار دیا ہے اور دونوںکے معنے یہ لکھے ہیںکہ مَاتَدْرِیْ۔تُو نہیں جانتا۔اور یہ بات درست بھی ہے کہ دونوں کے یہی معنےہیں مگر سوال یہ ہے کہ وجہ کیا ہے کہ قرآن کریم نے ایک سے عدمِ علم کی طرف اشارہ کر کے علم عطا کر دیا ہے اور دوسرے سے عدم علم کی خبر دے کر ابہام کو قائم رکھا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ گو لغت نے دونوں کو ایک قرار دیا ہے مگر صیغہ کے لحاظ سے مَاۤ اَدْرٰىكَ ماضی کا صیغہ ہے اور مَایُدْرِیْکَ مضارع کا صیغہ ہے۔ا ور گو استعمالِ عام میں اَدْریٰ اور یُدْرِیْ دونوں کے ایک معنی کر دئے گئے ہیں مگر قرآن کریم نے ان دونوں میں فرق کیا ہے۔ا ور اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کا صیغہ یقین پر دلالت کرتا ہے کیونکہ جو واقعہ ہو چکا وہ بہرحال قطعی اور یقینی ہوتا ہے۔لیکن مضارع محض توقع پر دلالت کرتا ہے اس لئے قرآن کریم نے بھی ان دونوں صیغوں کے استعمال میں اس فرقِ لطیف کو ملحوظ رکھا اور جس امر کو بتانا تھا اُسے ماضی کے صیغہ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ کے بعد رکھا اور جسے ابھی کچھ عرصہ کے لئے مبہم رکھنا تھا اُسے مَایُدْرِیْکَ کے الفاظ کے بعد رکھا۔تاکہ مضارع کی طرح اُس کا علم بھی مبہم اور غیر یقینی رہے کیونکہ مضارع کا صیغہ اپنے اندر یقین نہیں رکھتا بلکہ محض توقع رکھتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو ہم کہتے ہیں یَذْھَبُ وہ جائے گا مگر اس میں یقینی خبر نہیں ہوتی کہ وہ ضرور جائے گا کیونکہ ہمیں کیا پتہ کہ وہ جائے گا یا مر جائے گا یا بیمار ہو جائے گا یا قید ہو جائے گاپس جس خبر کو یقینی کرنا مقصود نہ تھااُسے اللہ تعالیٰ نے مضارع کے الفاظ کے بعد رکھا اور جس بات کا یقینی علم دینا تھا اُسے ماضی کے الفاظ کے بعد رکھا۔گویا اس طرح لُغت میں ایک لطیف فرق جو الفاظ کے مناسب حال ہے پیدا کر دیا جسے پہلے ادیب مدنظر نہ رکھتے تھے۔وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَۙ۰۰۱۱الَّذِيْنَ يُكَذِّبُوْنَ بِيَوْمِ اُس دن جھٹلانے والوں کے لئے عذاب (ہی عذاب) ہے (اُن کے لئے) الدِّيْنِؕ۰۰۱۲ جو جزاء سزا کے دن کا انکار کرتے ہیں۔تفسیر۔اس آیت میں پہلی سورۃ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔وہاں چونکہ فرمایا تھا کہ وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِاس لئے یہاں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس قسم کے ظلم ہمیشہ انجام سے استغناء اور انکار کے نتیجہ