تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 423

سجّین کے متعلق مفسّرین نے اپنے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ درج ذیل ہیں:۔لفظ سجین کی تشریح پہلے مفسرین کے نزدیک بعض نے اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ کے یہ معنے کئے ہیں کہ سات زمینوں کے نیچے ایک بہت بڑی چٹان ہے جس کا نام سجّین ہے اس چٹان کے نیچے کفار کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں اور بعض کہتے ہیں سجّین کسی چٹان کا نام نہیں بلکہ سجّین نام ہے شیطان کے کلّوں کا۔شیطان زمین کے نیچے لیٹا رہتا ہے جب کوئی کافر مر جاتا ہے تو فرشتے اُس کی روح کو آسمان پر لے جاتے ہیں۔کافر کی روح دیکھ کر آسمان والے کہتے ہیں ہم اس روح کو نہیں رکھ سکتے اسے واپس لے جائو( فتح البیان زیر آیت ھذا) چنانچہ وہ اسے زمین کے نیچے لے جاتے ہیں جہاں شیطان لیٹا ہوا ہوتا ہے۔شیطان نے تمام کفار کے اعمال نامے اپنے کلّے کے نیچے رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور اُس کا کلّہ اُن اعمال ناموں کی وجہ سے پُھولا ہوا ہوتا ہے جب کافر کی روح اس کے پاس پہنچتی ہے تو وہ اس کا اعمال نامہ بھی پہلے اعمال ناموں سے نتھی کر کے اپنے کلّے کے نیچے رکھ کر لیٹ جاتا ہے۔اس قسم کی اَور بھی بعض لغو اور بے ہُودہ روایات تفسیروں میں پائی جاتی ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہود بعض مسلمانوں سے تمسخر کیا کرتے تھے اور وہ مسلمان اپنی سادہ لوحی کے سبب اُن کی بتلائی ہوئی روایات کو آگے بیان کر دیتے تھے یہاں تک کہ بعض مفسّر انہیں اپنی تفاسیر میں درج کر لیا کرتے تھے حالانکہ یہود اسلام کے شدید دشمن تھے اُن سے قرآن کریم کی کسی آیت کے معنے پوچھنا کسی صورت میں درست نہ تھا مگر وہ یہودیوں کے پاس چلے جاتے اور پوچھتے کہ اس آیت کے معنے کیا ہیں وہ تمسخر کرتے ہوئے ایسی باتیں کہہ دیتے جو سرتاپا غلط اور بے بنیاد ہوتیں۔چنانچہ تفاسیر میں ایسی بہت سی روایات پائی جاتی ہیں جن کا یہودی کتب میں بھی کوئی نشان نہیں ملتا۔لیکن بعض روائتیں ایسی ہیں جو یہودی کتب سے مل جاتی ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض دیانتدار یہودی تھے اور اپنی کتابوں میں سے جو کچھ بتاتے تھے سچ سچ بتا دیتے تھے لیکن بعض بالکل جُھوٹی باتیں مسلمانوں کو بتا دیا کرتے تھے اور مُسلمان اپنی جہالت سے اُن کو قرآن کریم کی آیات کی تفسیر سمجھ لیتے تھے۔ابن کثیر والے نے ایک جگہ اسی قسم کی روایات کا ذکر کرتے ہوئے ایک نہایت ہی لطیف فقرہ لکھا ہے۔وہ ایک روایت کے ذکر پر لکھتے ہیں کہ یہ ایسی ہی روایت ہے جیسے ابن عباسؓ سے بعض یہودی روایات مروی ہیں وہ یہودیوں سے اُن پر اعتماد کر کے سوال کر لیا کرتے تھے اور یہودی انہیں جو کچھ بتا دیتے تھے اس کو وہ حسن ظنّی کر کے سچا سمجھ لیتے تھے۔مجھے ابن کثیرکے مصنّف کی یہ بات بڑی پسند آئی کہ اُس نے بڑی دلیری اور جرأت سے اس مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے۔سجّین کے متعلق جو روایات تفسیروں میں پائی جاتی ہیں وہ بھی ایسی ہی ہیں کہ ان کا یہودی کتب سے بھی پتہ نہیں چلتا۔