تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 411

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ يُخْسِرُوْنَؕ۰۰۴ اور جب (کسی چیز کو) اُنہیں تول کر یا وزن کر کے دیتے ہیں تو تھوڑا دیتے ہیں۔حَلّ لُغَات۔کَالُوْھُمْ:کَالُوْا کَالَ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے کہتے ہیں کَالَ الطَّعَامَ وَغَیْرَہٗ وَاَکْثَرُ اِسْتِعْمَالِہٖ فِی الطَّعَامِ یعنی کَالَ کا لفظ بالعموم کھانے کی اشیاء کے ماپنے اور تولنے پر بولا جاتا ہے لیکن غیر کے لئے بھی استعمال کر لیتے ہیں نیز اس کے معنے ہیں حَقَّقَ کَمِیَّتَہٗ اَوْمِقْدَارَہٗ بِوَاسَطَۃِ اٰلَتٍ مُعَدَّۃٍ لِذَالِکَ کَالصَّاعِ وَالْاِرْدَتِ وَالذِّرَاعِ وَنَحْوَ ذَالِکَ (اقرب) کسی چیز کی کمیّت یا اُس کی مقدار اس آلہ کے ذریعہ سے جو اس کے لئے مقرر کیا گیا ہو معلوم کرنا جیسے ہمارے ہاں ایک خاص پیمانہ کو ٹوپہ کہتے ہیںاور اس کے ذریعہ ماپ کر چیزیں لیتے دیتے ہیں یا عرب میں صاع ہوا کرتاتھا اسی طرح سیروں کے ذریعہ کسی چیز کا وزن کرنا اور کہنا کہ فلاں چیز اتنے سیر ہے یا گز کے ذریعہ کسی چیز کو ماپنا۔سب کے لئے کَالَ کا لفظ استعمال ہوتا ہے گویا کَالَ کے لفظ کے معنے یہ ہیں کہ اندازہ کے لئے جو چیز مناسب حال مقرر ہو اُس سے کوئی چیز لینا۔اگر وزن کی چیز ہے تو باٹوں کے ذریعہ وزن کر کے لینا۔اگر پیمانہ کے ذریعہ ماپنے والی چیز ہے تو پیمانہ سے ماپ کر لینا اور اگر گز سے اس کا اندازہ ہو سکتا ہو تو گز سے اندازہ کر کے لینا۔پس کَالَ میں تینوں چیزیں شامل ہیں صاعؔسے ماپنا۔باٹوںؔ سے وزن کرنا اور گزؔ وغیرہ سے اندازہ کرنا۔مگر چونکہ قرآن کریم نے کَالُوْھُمْ کے بعد اَوْوَّزَنُوْھُمْ کے الفاظ بھی استعمال فرمائے ہیں اس لئے ہمیں وزن کو الگ رکھنا پڑے گا اور کَالُوْھُمْ میں صرف صاع کے ذریعہ یا گز کے ذریعہ جو اندازہ لگایا جاتا ہے اسی کو شامل سمجھنا پڑے گا۔اگر قرآن کریم اَوْوَّزَنُوْھُمْ کے الفاظ زائد نہ کرتا تو کَالُوْھُمْ میں وزن بھی شامل ہوتا۔جیسا کہ لُغت والوں نے وزن کو بھی اس میں شامل کیا ہے مگر چونکہ وزن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے الگ کر دیا ہے اس لئے کَالُوْھُمْ میں صرف دوچیزیںرہ جائیں گی۔صاع کے ذریعہ ماپنا یا ذراع کے ذریعہ ماپنا۔اسی طرح لُغت والے لکھتے ہیں وَقَدْیَتَعَدّٰی اِلٰی مَفْعُوْلَیْنِ فَیُقَالُ کِلْتُ لِزَیْدِنِ الطَّعَامَ (اقرب) یعنی کبھی اس کے دو مفعول بھی آجاتے ہیں جیسے کہتے ہیں میں نے زید کو غلّہ اندازہ کر کے دیا۔اور کبھی مفعولِ اوّل پر لام بھی آجاتا ہے چنانچہ کہتے ہیں کِلْتُ لِزَیْدِنِ الطَّعَامَ یہ لفظ وزن کے لئے بھی استعمال ہو جاتا ہے جیسے کہتے ہیں کَالَ الصَّیْرَفُ الدَّرَاھِمَ اَیْ وَزَنَھَا (اقرب) صرّاف نے درہم تول کر دئے۔پھر کَالَ کا لفظ اس سے بھی وسیع معنوں میں استعمال ہو جاتا ہے کہتے ہیں کَالَ الشَّیْءَ بِالشَّیْءِ: قَاسَہٗ کسی چیز کو کسی چیز پر قیاس کیا۔نیز کہتے ہیں کِلْتُ فُلَانًا بِفُلَانٍ اَیْ قِسْتُہُ