تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 410

نزدیک اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عَلٰی کاصلہ استعمال کیا ہے اور مِنْ کے صلہ کی بجائے یَسْتَوْفُوْنَ کا لفظ لے آیا ہے کیونکہ جب اِکْتَلْتُ مِنْہُ کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں اِسْتَوْفَیْتُ مِنْہُ کَیْلًا۔گویا اس کے نزدیک دونوں صلے استعمال ہو گئے ہیں۔پس یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اِکْتَالُوْا عَلٰی کیوں آیا ہے اور اِکْتَالُوْا مِنْ کیوں نہیں آیا۔یَسْتَوْفُوْنَ کا لفظ مِنْ کا قائم مقام ہے اور عَلٰی کا صلہ تو ظاہر ہی ہے۔فراءؔ کی اس توجیہہ کے مطابق اعتراض کا جواب تو آ گیا لیکن یہ توجیہہ ہمیں قرآن کریم کے محاورہ کے خلاف نظر آتی ہے۔قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عَلٰی ا ور مِنْ کے استعمال میں کچھ فرق ہے اور یہ درحقیقت الگ الگ معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (یوسف:۶۴) ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے کہ ہم تول کر لیں گے اور اس کی حفاظت بھی کریں گے۔دوسری جگہ آتا ہے فَاَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ (یوسف:۸۹) اے آقا ہمیں پورا پورا تول کر دے۔جس سے ظاہر ہے کہ یوسف کے بھائیوں نے خود نہیں ماپا بلکہ دوسرے سے مپوایا۔اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام خود فرماتے ہیں اَلَا تَرَوْنَ اَنِّيْۤ اُوْفِي الْكَيْلَ (یوسف:۶۰) کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پورا پورا ماپ دیتا ہوں۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اِکْتیال کرنے والے حضرت یوسف علیہ السلام تھے اور وہ غلّہ ماپ کر دیتے تھے بھائی ماپ نہیں کرتے تھے۔مگر باوجود اس کے بھائی نَکْتَلْ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اِکْتَالَ کا لفظ جب بھی بولا جائے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس شخص نے آپ تولا یہ غلط ہے کیونکہ قرآن کریم میں آتا ہے فَاَرْسِلْ مَعَنَا اَخَانَا نَکْتَلْ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے کہ ہم اِکْتِیَال کریں گے مگر باوجود اس کے بھائی بھی مانتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام ہی ماپا کرتے تھے اور حضرت یوسف علیہ السلام بھی کہتے ہیں کہ اَنِّيْۤ اُوْفِي الْكَيْلَ میں ماپ کر دوں گا جس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ درحقیقت اِکْتَالَ مِنْہُ کا لفظ استعما ل ہو تو اس کے دونوں معنے ہوتے ہیں خواہ خود ماپ کرے یا دوسرے سے کروائے اور جب اِکْتَالَ عَلَیْہِ ہو تو صرف خود ماپ کر لینے کے معنےہوتے کیونکہ عَلٰی کا صلہ خلاف کے معنے دیتا ہے۔