تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 409
اس اعتراض کا جواب دینا آسان ہو جاتا ہے جو بعض لوگ کرتے ہیں کہ اس آیت میں ذم کا کوئی پہلو ہے ہی نہیں پھر وَیْلٌ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے وہ کہتے ہیںوَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِيْنَ کہہ کر آگے یہ کہا گیا ہے کہ الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ وہ مطففّف جو لوگوں سے اپنا حق پورا پورا لیتے ہیں اُن کے لئے عذاب ہے حالانکہ اپنا حق لینا محلِ ذم نہیں ہے پھر اپنا حق لینے پر اُن کے لئے وَیْل جو کلمۂ عذاب ہے کیوں استعمال کیا گیا ہے۔یہ اعتراض اُن معنوں کے رو سے جو اوپر بیان کئے گئے ہیں بالکل جاتا رہتا ہے۔کیونکہ حق خود مقرر کرنے پر اصرار اور پھر حق لینے میں انتہائی سختی اور عدم رحم خود محلِّ ذم ہے اور رحم اور شفقت جس قوم میں نہ ہو وہ وَیل کے نیچے ہوتی ہے۔علاوہ ازیںعَلٰی کا صلہ خلاف کے معنوں میں عام طور پر استعمال ہوتا ہے پس اگر لوگوں کو ضرر اور نقصان پہنچانا اس کے مفہوم میں شامل سمجھا جائے تو یہ بھی محلِّ ذم ہے۔اس صورت میں الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ لوگوں سے تول کر لیتے ہیں ایسی صورت میں کہ اُن کو ضرر پہنچتا ہو۔اس صورت میں بھی وَیْل کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے۔اس موقعہ پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر عَلٰی بمعنے خلاف اس جگہ استعمال ہوا ہے تو پھر یَسْتَوْفُوْنَ کے کیا معنے ہوئے؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں استیفاء سے مراد استیفاء مطابق خواہش ہے نہ کہ استیفاء مطابق واقعہ۔یہ نہیں کہ دوسرا اگر یہ سمجھتا ہو کہ میرے ذمہ دو سیر حق نکلتا ہے تو یہ دو سیر لے کر ہی راضی ہو جائیں گے بلکہ یہ اگر تین سیر لینا چاہیں گے تو تین سیر ہی لیں گے اس سے کم نہیں لیں گے۔پس یہاں استیفاء سے مراد استیفاء مطابق واقعہ نہیں بلکہ استیفاء مطابق خواہش ہے گویا یَسْتَوْفُوْنَ کے معنے یہ ہیں یَسْتَوْفُوْنَ کَمَا یَشَآءُ وْنَ یا یَسْتَوْفُوْنَ حَسْبَ مُطَالَبَتِھِمْ اور ان معنوں میں یَسْتَوْفُوْنَ کا مفہوم عَلٰی کے مفہوم کے خلاف نہیں پڑتا بلکہ عین مطابق ہوتا ہے۔بعض نے کہا ہے کہ عَلٰی اِکْتَالُوْا کا صلہ ہی نہیں بلکہ عَلٰی یَسْتَوْفُوْنَ کا صلہ ہے اور مراد یہ ہے کہ ان کا استیفاء اپنے حق میں اور دوسروں کے خلاف ہوتا ہے یعنی ایسی صورت میں استیفاء کراتے ہیں جس کا اثر دوسروں کے خلاف پڑتا ہے اور اصل جملہ یہ ہے اِذَا اكْتَالُوْا یَسْتَوْفُوْنَ عَلَى النَّاسِیعنی وہ لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہوئے اپنی خواہش کے مطابق پورا لیتے ہیں گویا اپنے حق میں تو استیفاء ہوتا ہے لیکن لوگوں کے خلاف ہوتا ہے۔اکتال منہ اور اکتال علیہ میں فرق میں بتا چکا ہوں کہ لغت والوں نے لکھا ہے کہ اِکْتَالَ کا صلہ مِنْ اور عَلٰی د ونوں طرح آتا ہے اور معنوں کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں لیکن مفسّرین نے اس پر بحث کی ہے کہ یہاں اِکْتَالُوْاعَلٰی کیوں آیا ہے اِکْتَالُوْا مِنْ کیوں نہیں آیا۔مَیں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ فرّاءؔ کے