تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 408
یوروپین اقوام پر شائیلاک کی کہانی کا صادق آنا شائیلاک کی کہانی حقیقت میں عیسائیوں پر پوری طرح چسپاں ہوتی ہے یہ لوگ بھی جب کسی سے کچھ لینا ہوتا ہے تو ایسی سختی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی چیز کی بھی پروا نہیں کرتے لیکن جب دینے کا سوال آئے تو سو سو بہانے بنانے لگ جاتے ہیں۔میں یہ بتا چکا ہوں کہ اِکْتَالَ کے دو صلے آتے ہیں۔مِنْ اور عَلَی چنانچہ اِکْتَالَ مِنْہُ اور اِکْتَالَ عَلَیْہِ دونوں عربی زبان میں استعمال ہوتے ہیں اور دونوں کے ایک ہی معنے سمجھے جاتے ہیں۔لیکن بعض علماء ادب نے کہا ہے کہ صلہ کے تغیّر سے اس لفظ کے مفہوم میں بھی فرق پیدا ہو جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں یہ صحیح ہے کہ اِکْتَالَ مِنْہُ اور اِکْتَالَ عَلَیْہِ دونوں صلے آتے ہیں لیکن جب اِکْتَالَ کے ساتھ عَلَی کا صلہ آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں اَخَذْتُ مَاعَلَیْہِ کَیْلًا کہ جو کچھ میرا اُس کے ذمہ تھا وہ میں نے اُس سے وزن کر کے لے لیا۔فرّاءؔ جو مشہور نحوی ہے اُس نے یہ تشریح کی ہے اور کہا ہے کہ عَلَی کے صلہ کے ساتھ جب اِکْتَالَ کا لفظ آئے تو اس کے معنے اَخَذْتُ مَاعَلَیْہِ کَیْلًا کے ہوتے ہیں یعنی میں نے اس سے وہ چیز جو اس کے ذمہ تھی لے لی۔لیکن اگر اِکْتَلْتُ مِنْہُ کہا جائے تو اس کے معنے اِسْتَوْفَیْتُ مِنْہُ کَیْلًا کے ہوتے ہیں کہ مَیں نے ماپ کر اس سے پورا پورا لےلیا یعنی زور پورا لینے پر ہوتا ہے (روح المعانی زیر آیت ھذا) گویا عَلٰی کے صلہ میں تو یہ مراد لی گئی ہے کہ جو کچھ دوسرے کے ذمہ ہو اس سے لے لیا جائے یعنی لے لینے پر زور ہوتا ہے اور مِنْ کے صلہ کے ساتھ اس لفظ کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ ماپ کر اس سے پورا پورا لے لیا یعنی پورا پورا لینے پر زور ہوتا ہے۔غرض اس آیت میں اس امر پر زور ہے کہ وہ لوگ حق لے کر اور اپنے اندازہ کے مطابق پورا لے کر چھوڑتے ہیں بات یہ ہے کہ ایک حق کالینا تو اس طرح ہوتا ہے کہ دوسرے شخص سے ہم گفتگو کرتے ہیں اُس کے دلائل سنتے ہیں اور پھر باہمی مشورہ سے فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کا اتنا حق بنتا ہے لیکن ایک زبردستی کا حق ہوتا ہے کہ دوسرے کو تحکمانہ طور پر کہا جائے کہ میرے نزدیک تمھارے ذمہ یہ حق نکلتا ہے اور اب تم سے میں اس حق کو لے کر رہوں گا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ یہ عیسائی لوگ ایسے ہوں گے کہ دوسروں سے کہیں جو کچھ ہم تم سے مانگتے ہیں وہ ہمیں دے دوپیمانہ اُن کے اپنے ہاتھ میں ہو گا۔اپنے حق کے فیصلہ کا اختیار بھی اُن کے اپنے ہاتھ میں ہو گا اور وہ جو جی چاہے گا اپنا حق جتا کر دوسروں سے لے لیں گے اور پھر اصرار کر کے لیں گےگویا حق کی مقدار کی تعیین وہ دوسرے پر نہیں چھوڑیں گے بلکہ اس کی مقدار معین کرنے کا حق اپنے پاس رکھیں گےاور بجائے تراضیٔ فریقین سے ایک حق مقرر کرنے کے جو حق اپنے لئے خود مناسب سمجھیں گے وہ تجویز کر لیں گے مطلب یہ ہوا کہ رحم اور شفقت اُن میں بالکل نہیں ہو گی اور حق کے نام کے ماتحت ان کی کارروائیاں جبری اور ظالمانہ ہوں گی۔اس تشریح کو سمجھ لینے کے بعد