تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 397

مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ کو دوہرانا محض اس لئے ہے کہ تم کو کیا پتہ ہے کہ یہ يَوْمُ الدِّيْنِ جس کا ہم ان آیات میں ذکر کر رہے ہیں یہ کیا چیز ہے؟ آئو ہم تم کو بتاتے ہیں کہ جسيَوْمُ الدِّيْنِ کا ہم نے ذکر کیا ہے اس سے ہماری مراد کیا ہے؟ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا١ؕ (یہ وقت) اس دن (ہو گا) جس میں کوئی جان کسی جان کو فائدہ پہنچانے کے لئے کوئی اختیار نہ رکھے گی۔وَ الْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِؒ۰۰۲۰ اور سب فیصلہ اس دن اللہ ہی کے ہاتھ میں ہو گا۔تفسیر۔یہاں نَفْسٌ لِّنَفْسٍ سے مَیں اپنے ذوق کے مطابق پھر وہی نفسِ عیسائیت مراد لیتا ہوں جس کا عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ میں ذکر کیا گیا تھا کہ یورپ کی جتھے بازیاں اس کے کسی کام نہیں آئیں گی۔وہ جتھے بنا بنا کر اور لیگ آف نیشنز قائم کر کے اس عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے۔مگر نہ ان کے جتھے ان کے کام آئیں گے اورنہ ان کی سوسائیٹیاں ان کو اس عذاب سے بچا سکیں گی۔عیسائیت کی بنیاد چونکہ کفا رہ پر ہے اس لئے يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ تمہارا کفارہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا اور وہ تمہارے کسی کام نہیں آئے گا۔وَ الْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِکے معنے اس دنیا کے لحاظ سے وَ الْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ قیامت کے لحاظ سے تو اس آیت کا مفہوم ظاہر ہی ہے۔اس دنیا کے لحاظ سے اِس آیت کے یہ معنے ہیں کہ اُنیس سو سال سے عیسائی یہ دعا کرتے چلے آئے ہیں کہ اے خدا تیری بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی آئے(متی باب ۶ آیت ۱۰)۔مگر انیس سو سال تک خدا کی بادشاہت زمین پر لانے والے اپنے مقصد میں ناکام رہے اور وہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو زمین پر اس طرح نہ لا سکے جس طرح وہ آسمان پر قائم ہے۔لیکن جب کبھی بھی وہ اس امر میں ناکام رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ایک دوسری جماعت کو کھڑا کر دے گا جو امر الٰہی کو آسمان سے زمین پر لانے میں کامیاب ہو جائے گی اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو زمین پر قائم کر کے دکھا دے گی۔گویا جس کام کو یہ لوگ اُنیس سو سال میں نہ کر سکے وہ کام ہماری ایک اَور جماعت کر کے دکھا دے گی اور اللہ تعالیٰ کا حکم زمین پر جاری ہو جائے گا۔خدا تعالیٰ مجسّم نہیں کہ وہ دنیا میں آجائے۔خدا تعالیٰ کے آنے سے مراد اس کی بادشاہت کا قیام ہوتا ہے۔اور