تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 35

حل لغات۔مُعْصِرَۃٌ مُعْصِرَۃٌکے معنے ہوتے ہیں وہ بدلی جس میں نمی کی بہت زیادتی ہو اور اُس میں سے بارش کے قطرات گرتے ہوں۔اَلْمُعْصِرَۃُ۔اَلسَّحَابَۃُ تُعْتَصَرُ بِالْمَطَرِ۔یعنی مُعصِرَۃُ اُس بدلی کو کہتے ہیں جس میں سے پانی کے قطرے ٹپکے پڑتے ہوں۔پس مُعْصِرَات کے معنے ہوئے اَلسَّحَائِب تُعْتَصَرُ بِالْمَطَرَ (اقرب)وہ بادل جن میں سے پانی کی کثرت کی وجہ سے قطرے ٹپک پڑتے ہیں اور مُعْصِرَۃٌ اُس ہوا کو بھی کہتے ہیں جس کے ساتھ بگولہ آتا ہے چنانچہ اَعْصَرَتُ الرِّیحُ کے معنے ہیں جَاءَ تْ بِالْاِعْصَارِ (اقرب) ہوا کے ساتھ بگولہ آیا۔لیکن محاورہ کی رو سے اَلْمُعْصِرَات: أَلسَّحَائِبُ تُعْتَصَرُ بِالْمَطَرَ کے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے۔گو مُعصِرَۃ کے معنے ہوا کے بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ بعض صحابہؓ نے کئے ہیں لیکن چونکہ عام محاورہ میں مُعصِرَۃ اُس ہوا کو کہتے ہیں جس کے ساتھ بگولہ ہواور یہ معنے یہاں پور ی طرح چسپاں نہیں ہوتے اس لئے یہاں زیادہ مناسب معنے ایسے بادل کے ہی ہوں گے جس میں پانی کی کثرت ہو اور اس میں سے پانی ٹپک رہا ہو۔ہاں وضعِ لُغت کے لحاظ سے اِعْصَار کے معنے چونکہ نچوڑنے کے ہوتے ہیں اس لئے مُعْصِرَات اُن ہوائوں کو بھی کہہ سکتے ہیں جن کے تیزی سے چلنے کی وجہ سے بادلوں کے بخارات جلد مجتمع ہو کر پانی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔بہرحال بعض صحابہؓ نے مُعْصِرَات کے معنے ہوائوں کے کئے ہیں اور بعض نے اس کے معنے بادلوں کے کئے ہیں۔اکثر مفسّرین نے ترجیح بادلوں کے معنوںکو ہی دی ہے کیونکہ لُغت کے استعمال میں یہی معنے رائج ہیں(تفسیر فتح البیان،ابن کثیر ، جامع البیان زیر آیت ھذا)۔ثَجَّاجًا۔ثَجَّاجًا ثَجَّ سے ہے اورثَجَّ الْمَاءُ کے معنے ہوتے ہیں سَالَ(بِکَثْرَۃٍ)(اقرب) یعنی کثرت کے ساتھ پانی بہنا شروع ہوا۔اور ثَجَّاج کے معنے ہیں اَلثَّجَاجُ مِنَ الْمَطَرِ: السَّیَّالُ الشَّدِیْدُ الْاِنْصِبَابِ(اقرب)یعنی ثَجَّاج اُس بارش کو کہتے ہیں جو بڑی تیزی سے برستی ہے۔پس آیت کے معنے یہ ہوئے کہ ہم نے بڑی بارش والی بدلیوں میں سے جن سے پانی کی کثرت کی وجہ سے قطرات ٹپکے پڑتے ہیں ایک ایسا پانی اتارا ہے جو کثرت سے بہنے والا ہے۔تفسیر۔اِن آیات میں اللہ تعالیٰ نے پہلے سورج کا ذکر کیا اور پھر بدلیوں کا ذکر کر کے بتایا کہ ان دو چیزوں سے مل کر زمین تیار ہوتی ہے یعنی جب سِرَاج وَھَاج سے زمین تیار ہوتی ہے تومُعْصِرَات سے پانی برستا ہے جس سے زمین کی روئیدگیاں نشوونما حاصل کرنا شروع کر دیتی ہے۔دوسرےؔان آیات میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ جہاں وَھَج سے زمین تیار ہوتی ہے وہاں وَھَج سے ہی بادل اُٹھتے ہیں۔کیونکہ بادل کیا چیز ہیں۔بادل سمندروں اور دریائوں اور نالوں وغیرہ کے پانی کے ابخرے ہیں جو سورج کی گرمی سے اُڑ کر فضاء میں جاتے اور پھر فضاء کی سردی میں سیّال بن کر زمین پر ہی واپس آجاتے ہیں۔جب سورج کی گرمی ان پانیوں پر پڑتی ہے تو جس طرح آگ پر ہم پانی رکھیں تو اُس میں سے دُھؤاں اٹھنا شروع ہو جاتا ہے اور اگر زیادہ دیر تک آگ پر رکھا جائے تو تمام پانی بخارات بن کر اُڑ جاتا ہے اسی طرح سورج کی گرمی سے بخارات اُٹھتے اور آہستہ آہستہ جَوّ میں جمع ہوتے رہتے ہیں پھرہوائیں اُن کو زمین پر لا کر برسا دیتی ہے۔تو ایک طرف سِرَاج وھَّاج سے زمین تیار ہوتی ہے اور دوسری طرف سِرَاج وھَّاج ہی پانی لاتا ہے گویا وہی گرمی جو انسان کے بے چین کر رہی ہوتی ہے اُس کو ٹھنڈک پہنچانے کے سامان مہیّا کر رہی ہوتی ہے۔آیت اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ سے قیامت کی طرف اشارہ اِن آیات میں قیامت کی طرف اس رنگ