تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 384
طرح ظالم ہے (۲)بنی نوع انسان کے متعلق (الف)غرور اور کبر اپنے آپ کو ہر بات میں دوسری اقوام پر فضیلت دینا۔(ب)دوسروں کی نیکیوں کو چھپانا اور ان کے احسانات کا انکار کرنا (۳)بنی نوع انسان کی فطرت کو گندہ قرار دینا اور اس کے مقابل پر اپنے اندر خدائی طاقتوں کا دعویٰ۔اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے اے اوپر ذکر کئے ہوئے انسان یعنی مسیحی بتا تو کہ آخر کس بات نے تجھے مغرور کیا ہے اور پھر مغرور بھی رب کریم کے مقابل پر۔یعنی ایک طرف تو خدا تعالیٰ کو گِراتا ہے دوسری طرف اپنے آپ کو بڑھاتا ہے ایک طرف تو یہ تسلیم کرتا ہے کہ تیرا رب کریم ہے اور دوسری طرف تیری یہ حالت ہے کہ تو ایک بندے کو خدا کا بیٹا بنا رہا ہے جس کی بُنیاد اس دلیل پر ہے کہ خدا لوگوں کے گناہ معاف نہیں کر سکتا۔اور چونکہ وہ معافی دینے کی طاقت نہیں رکھتا تھااس لئے معافی کی قائمقام کوئی اور چیز ہونی چاہیے تھی سو وہ قائم مقام خدا تعالیٰ نے اپنے بیٹے کو بنا کر بھیج دیا۔جس نے لوگوں کے گناہوں کی خاطر اپنے آپ کو قربان کر دیا۔یہی کفّارے کے مسئلہ کی بنیاد ہے جس پر عیسائی مذہب کی بنیاد ہے اور جس کی بناء پر وہ لوگوں میں حضرت مسیح ؑ کے ابن اللہ ہونے کا پراپیگنڈہ کرتے ہیں حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ تورات میں اور بھی کئی انبیاء کو بلکہ یہود کی قوم کو بھی خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا گیا تھا۔چنانچہ خروج باب ۴ آیت ۲۱،۲۲ میں لکھا ہے ’’خدا وند نے موسیٰ سے کہا کہ جب تو مصر میں پُہنچے تو دیکھو وہ سب کرامات جو مَیں نے تیرے ہاتھ میں رکھی ہیں فرعون کے آگے دکھانا۔لیکن میں اس کے دل کو سخت کروںگا اور وہ ان لوگوں کو جانے نہیں دے گا۔اور تُو فرعو ن سے کہنا کہ خدا وند یُوںفرماتا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا بیٹا ہے اور میں تجھے کہہ چکا ہوں کہ میرے بیٹے کو جانے دے۔‘‘ مسیح کو ابن اللہ کہے جانے کا مطلب پھر سلیمان کے متعلق خدا تعالیٰ کہتا ہے ’’ وہ میرا بیٹا ہو گا اور مَیں اس کا باپ ہونگا اور میں اسرائیل پر اس کی سلطنت کا تخت ابد تک قائم رکھوں گا۔‘‘ (تواریخ باب ۲۲ آیت ۱۰)پس یہ سوال ہوسکتا تھا کہ جب اور انبیاء بلکہ صلحاء بھی خدا تعالیٰ کے بیٹے کہلاتے تھے تو حضرت مسیح ؑ کو بھی اگر ابن اللہ کہہ دیا گیا تو اس میں کون سی زائد خصوصیّت پیدا ہو گئی۔اس لئے مسیحیوں نے یہ بات بنا لی کہ مسیح ؑ کی امتیازی شان یہ ہے کہ اس کی قربانی کے ساتھ لوگو ں کے گناہوں کی معافی وابستہ تھی اور چونکہ یہ خصوصیّت کسی اور نبی کو حاصل نہیں ہوئی اس لئے گو اُن کو بھی ابن اللہ کہا گیا ہے مگر وہ اَور معنوں میں ہے اور مسیح کو ابن اللہ اور معنوں میں کہا گیا ہے اسی طرح آہستہ آہستہ انہوں نے مسیح ؑ کی الوہیت کا مشرکانہ عقیدہ لوگوں کے قلوب میں راسخ کر دیا(قاموس الکتاب صفحہ ۷۹۲ زیر لفظ کفارہ)۔مسیحیوں کے گھمنڈ کی وجہ دوسری چیز جو عیسائیوں کے گھمنڈ کا موجب ہوئی وہ اُن کی طاقت اور قوت اور اعلیٰ