تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 383
الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ۰۰۸فِيْۤ اَيِّ صُوْرَةٍ (اس رب کے بارے میں) جس نے تجھے پیدا کیا پھر تجھے (یعنے تیری اندرونی قوتوں کو) درست کیا۔پھر مَّاشَآءَ رَكَّبَكَؕ۰۰۹ (دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں ) تجھے مناسب قوتیں بخشیں (پھر) جو صورت اس نے پسند کی اس میں تجھے ڈھالا۔حل لغات۔سَوَّیٰ سَوَّیٰ کے معنے ہوتے ہیں سب عیبوں اور نقصوں کو دُور کیا (اقرب) عَدَلَ کے ایک معنے نقص دور کرنے کے بھی ہوتے ہیں جیسے کہتے ہیں عَدَلَ السَّھْمَ: اَقَامَہٗ تیر کو بالکل سیدھا کیا اور اس کے نقص کو دُور کر دیا اور عَدَلُوْہُ کے معنے ہوتے ہیں قَوَّمُوْہُ اس کے نقص کو دُور کر دیا اِسی طرح عَدَلَ کے معنے موازنہ کرنے کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ عَدَلَ فُلَانًا کے معنے ہوتے ہیں وَازَنَہٗ اس کا موازنہ کیا (اقرب) فِیْ اَیِّ سُوْرَۃٍ مَّا شَآئَ کی لوگ کئی ترکیبیں کرتے ہیں آسان تر صورت یہ ہے کہ مَا کو زائدہ قرار دے دیا جائے اور معنے یہ لئے جائیں کہ رَکَّبَکَ فِیْ اَیِّ سُوْرَۃٍ شَاءَ یعنی اُس نے اپنی مرضی کے مطابق تجھ کو صورۃ بخشی جسمانی بھی اور روحانی بھی۔گویا شَائَ سے مراد وہ صورت ہو گی جو اُس نے خود پسند کی اور جسے اُس کی مشیّت نے ترجیح دی یعنے ایسا نہیں ہوا کہ اتفاقی طور پر انسان کو اِس صورت میں پیدا کر دیا گیا ہے بلکہ یہ وہ صورت ہے جسے خدا نے انسان کے لئے پسند کیا۔تفسیر۔اس آیت میں چار باتیں بیان کی گئی ہیں۔اوّلؔ خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔دومؔ اس کا تسویہ کیایعنی ہر ذاتی نقص اور عیب کو دُور کیا۔سومؔ پھر اس کی تعدیْل کی یعنی دوسری اشیاء کی نسبت سے اس کی اصلاح کی۔چہارمؔ پھر اسے ایسی صورت دی جو خدا تعالیٰ کی چنندہ صورت تھی اس چنندہ صورت کے مطابق اس نے انسان کی تخلیق کی۔یعنی اعلیٰ درجہ کے کمالات اس میں رکھے۔یہ چار باتیں مسیحیوں کی گستاخی کو اور زیادہ بھیانک بنانے کے لئے ہیں۔مسیحیت میں دو خطرناک عیب مسیحی تاریخ دو خطرناک عیبوں پر مشتمل ہے (۱) اللہ تعالیٰ کی گستاخی پر جس کی تفصیل یہ ہے (الف) اللہ تعالیٰ کا شرک (ب)اللہ تعالیٰ پر عیب لگانا کہ وہ معاف نہیں کرسکتا (ج)اللہ تعالیٰ پر الزام کہ آدم کا گنہ اس نے اولاد میں رکھ دیا (د)اللہ تعالیٰ پر الزام کہ وہ بے گناہ کو دوسروں کی خاطر سزا دیتا ہے اور اس