تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 353
معنے ہوئے کہ یہ دھتکارے ہوئے شیطان کا قول نہیں ہے۔یعنی دو ہی الزام کفا ر لگا سکتے ہیں ایک یہ کہ نعوذ باللہ آپ پاگل ہیںاس کا جواب اوپر گزر چکا ہے دوسرے یہ کہ نعوذ باللہ آپ بد اور شیطان سے تعلق رکھتے ہیں اس کا بھی وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ سے رد ہو گیا کیونکہ جس کی کئی پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہوں وہ شیطان سے تعلق رکھنے والا کس طرح کہلا سکتا ہے شیطان کو علم غیب کہاں سے آیا وہ تو دھتکاراہوا ہے چنانچہ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِزِيْنَةِ ا۟لْكَوَاكِبِ۔وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ مَّارِدٍ۔لَا يَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ يُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ۔دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ۔اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ (الصّٰفّت:۷ تا ۱۱) یعنی ہم نے ورلے آسمان کو ستاروں کے ساتھ مزین کیا ہے اور ہم نے اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ کیا ہے وہ خُدا کے مقربوں کی بات نہیں سُن سکتے (کجا یہ کہ خدا تعالیٰ کی بات سُنیں) اور ہر طرف سے اُن پر پتھرائو ہوتا ہے تاکہ انہیں دُور کر دیا جائے اور انہیں مستقل عذاب ملتا ہے۔ہاں اگر کوئی بات (مقربین سے) اُچک لے تو اللہ تعالیٰ اُس پر ایک چھید دینے والا ستارہ پھینکتا ہے جو اُسے تباہ کر دیتا ہے پس اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ علمِ غیب شیطانوں کو نہیں ہوتا۔اگر جھوٹے ملہمین کسی کی بات کو اپنی طرف منسوب کر کے وہ غیب دان بننا بھی چاہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو سز ا دے کر تباہ کر دیتا ہے۔پس جبکہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم غیب کے بیان کرنے میں بخیل نہیں یعنی کثرت سے غیب بیان کرتے ہیں تو ان کا تعلق شیطان سے کس طرح ہو سکتا ہے وہ تو لازمًا خدا تعالیٰ کے مامور ہی سمجھے جا سکتے ہیں۔ایک دلیل اور بھی اس جگہ دی گئی ہے اور وہ یہ کہ رَجِیْم دھتکارے ہوئے کو کہتے ہیں۔پس اس جگہ کفار کو اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ مدعی تو روز بروز ترقی کر رہا ہے جو شخص شیطان سے تعلق رکھتا ہے وہ تو ذلیل ہوا کرتا ہے نہ کہ ترقی کرتا جاتا ہے۔ضمنی طور پر اس جگہ یہ ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ اس دلیل کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے دھوکا کھا جاتے ہیں اور اُن کے لئے سچے اور جھوٹے مدعی میں امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔کیونکہ جو مدعی بھی کھڑا ہو گا خواہ وہ جھوٹا ہی ہو کچھ نہ کچھ لوگ اس کے ساتھ ضرور مل جاتے ہیں اور پھر عام طور پر وہ اس بات کو اپنی صداقت کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو ہم اکیلے تھے اب ہمارے ساتھ اس قدر آدمی شامل ہیں۔میں نے دیکھا ہے عام طور پر ہماری جماعت کے آدمی بھی بعض دفعہ ایسے موقع پر گھبرا جاتے ہیں مثلاً میاں عبداللہ تیما پوری کہہ دیتے ہیں کہ میں پہلےاکیلا تھا مگر اب مجھے ماننے والے اتنے ہو گئے ہیں یا میاں غلام محمد کہہ دیتے ہیں میرے ساتھ اتنے لوگ ہیں اوریہ میر ی سچائی کا ثبوت ہے اگر میں جھوٹا ہوتا تو اللہ تعالیٰ مجھے یہ کامیابی کیوں عطا کرتا۔درحقیقت یہ