تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 351

افق مبین سے مراد مشرق مشرق کا استدلال اس سے ہوتا ہے کہ گو افق تو ہرجہت بعیدہ کو کہتے ہیں لیکن حدنظر جہاں آسمان اور زمین کو ملتے ہوئے دیکھتی ہے وہ ہر سمت افق تو ہوتی ہے مگر افق مبین نہیں ہوتی یعنی کھولنے اور ظاہر کرنے والی افق۔کھولنے اور ظاہر کرنے والی افق مشرق ہی کی ہوتی ہے جدھر سے سورج نکلتا ہے اور اندھیروں کو پھاڑ دیتا ہے پس افق مبین کے الفاظ اداکر کے نہ صرف زمانہ بعیدہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بلکہ مشرق کی طرف کے ظہور کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔پھر فرماتا ہے کہ اس کی بتائی ہوئی خبریں گو تم کو عجیب معلوم ہوتی ہیں مگر تمہیں اِسے مجنون کہنے کا حق نہیں ہے کیونکہوَ مَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ اس نے غیب کی ایک ہی خبر نہیں دی کہ تم کہہ دو یہ تو پاگل ہے بلکہ یہ غیب پر بخیل نہیں ہے یعنی اس نے آئندہ حالات سے تعلق رکھنے والی بہت سی اہم خبریں دی ہیں جن میں سے کئی پوری بھی ہو چکی ہیں۔اگر ایک ہی خبر ہوتی جو اس نے دی ہوتی اور اگر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ کہا ہوتا کہ چونکہ تیرہ سو سال کے بعد ایسا ہو جائے گا اس لئے تم مجھے مان لو تو تم کہہ سکتے تھے کہ یہ پاگل ہے مگر اب تم یہ بات نہیں کہہ سکتے کیونکہ وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ۔یہ پہلی خبر نہیں ہے جو اس نے دی ہو بلکہ اور بھی یہ بہت سی خبریں دے چکا ہے اور وہ خبریں پوری بھی ہو چکی ہیں پس تم ان خبروں پر قیاس کر کے کہہ سکتے ہو کہ یہ بات بھی ایک دن پوری ہو جائے گی۔تمہارا یہ حق نہیں ہے کہ تم اسے پاگل کہو۔آج کل جو جھوٹے مدعی کھڑے ہو گئے ہیں اُن سے جب ہماری بحث ہوتی ہے کہ بتائو تمہاری کون کون سی پیشگوئی پوری ہوئی تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ تم مرزا صاحب کی فلاں بات مانتے ہو یا نہیں جس نے ابھی تین سو سال کے بعد پورا ہونا ہے جب تم اس بات کو مانتے ہوتو ہماری بات کیوں نہیں مان لیتے۔ہم اُنہیں یہی کہا کرتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب کی صرف یہی ایک پیشگوئی ہوتی کہ تین سو سال کے بعد ایسا ہو جائے گا تو یقیناً یہ آپ کی صداقت کا کوئی قطعی ثبوت نہ تھا۔آپ کی صداقت کا ثبوت تو یہ ہے کہ آپ نے اس کے علاوہ اور بھی کئی پیشگوئیاں کیں جو پوری ہو گئیں اُن پر قیاس کر کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی ایک دن پوری ہو جائے گی مگر تمہاری حالت تو یہ ہے کہ تمہاری اب تک کوئی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔جتنی پیشگوئیاں ہیں سب آئندہ زمانوں سے تعلق رکھتی ہیںچنانچہ جس قدر مدعی ہیں اُن کا سارا زور اسی پر ہوتا ہے کہ اگر مَیں اُن کو مان لوں تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ میں ان کو کس طرح مان لوں جب کہ اُن کی صداقت کا کوئی ثبوت ہی نہیں۔تو فرماتا ہے وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ۔سچے مدعی کو پہچاننے کا ایک اصول سچے مدعی کو پہچاننے کا یہ ایک زبردست اصول ہے کہ اس کی بعض پیشگوئیاں قریب زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں اور بعض بعید زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی