تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 350

نہیں آیا۔اور تم خود اس کی نیکی اور تقویٰ اور عقل اورا صابت رائے کے گواہ رہے ہو۔پھر اب کس وجہ سے اسے پاگل قرار دیتے ہو۔آخر عقل سے جنون کی طرف رجوع یا کسی صدمہ سے ہوتا ہے یا بیماری سے یا تدریجی طور پر ہوتا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم تمہارے ساتھ رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بات بھی آ پ میں نہیں پائی جاتی۔پھر ان کو پاگل تم کس طرح کہتے ہو۔یہ قرآن کریم کا معجزانہ کمال ہے کہ ایک لفظ میں دلیل بیان کر دیتا ہے۔اس جگہ صرف صَاحِبُکُمْ کے مختصرسے لفظ سے مجنون ہونے کے الزام کی نفی کر دی۔یعنی اس طرف توجہ دلا کر کہ یہ تو تمہارا صاحب یعنی دوست اور مشیر کار اور امانتدار کہلاتا تھایکد م اسے جنون آخر کہاں سے آیا۔اور اس دعویٰ کے بعد اس کے مجنون ہونے کا فتویٰ کیوں لگانے لگ گئے۔اس سے پہلے تواسے اپنا آقا اور سردار کہا کرتے تھے۔اور اپنا لیڈر تسلیم کرتے تھے۔اور بڑا عقلمند اورسمجھدار قرار دیتے تھے۔وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِۚ۰۰۲۴ اور اس نے اس (غیب ) کو یقیناً کھلے اُفق میں دیکھا ہے۔وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍۚ۰۰۲۵ اور وہ غیب (کی خبریں بتانے) میں ہر گز بخیل نہیں۔حَلّ لُغَات۔اَلْاُفُقُّ اَلْاُفُقُّ وَالْاُفْقُ اَلْاٰفَاقُ کا مفرد ہے۔اور اَلْاَفَاقُ کے معنے ہیں اَلنَّوَاحِیْ اطراف (اقرب) اور اُفُقُ الْمُبِیْنِ۔نَاحِیَۃُ الْمَشْرِقِ کو کہتے ہیں۔کیونکہ سورج مشرق سے ہی ظاہر ہوتا ہے۔ضَنِیْنٍ مَا ھُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ اَیْ مَا ھُوَ بِبَخِیْلٍ یعنی ضَنِیْنٍ کے معنی ہیں بخیل اور مَا ھُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍکے معنے ہیں کہ وہ غیب بیان کرنے پر بخیل نہیں۔(مفردات) تفسیر۔مجنون کے الزام کو ردّ کر کے اب بتاتا ہے کہ جب محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا دَورِ نبوت ایک لمبے عرصہ تک کے لئے ہے تو وہ اس لمبے عرصہ کے متعلق پیشگوئیاں کیوں نہ کرے۔وہ اپنے دعویٰ کی وجہ سے مجبور ہے کہ جو باتیں تم کودُور اور خلاف عقل نظر آتی ہیں اُن پر روشنی ڈالے کیونکہ وُہ باتیں اس کے زمانۂ بعثت کے اندر شامل ہیں تمہارے لئے وہ زمانۂ غیب ہے لیکن اس کے جہان پر وہ ظاہر ہے اور اس کی دنیا کے لئے بطور افقِ مبین کے ہے جسے وہ دیکھ رہا ہے اور جن خبروں کو وہ بتا رہا ہے وہ مشرق سے تعلق رکھتی ہیں۔