تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 349
فیصلے کے خلاف اپنی زبان نہیں کھول سکتا۔مگر فرماتا ہے جب خدا اس کے ہاتھ میں لوگوں کی گردنیں دے گا۔ان کی عزتیں دے گا۔ان کے مال دے گا۔تو تم دیکھو گے یہ ہر شخص کا حق پُوری دیانتداری کےساتھ ادا کر ے گا۔گویا جہاں خدا کا حق پوری طرح ادا کرنے کے لحاظ سے یہ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ہو گا۔وہاں بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لحاظ سے یہ امین بھی ہو گا۔ان چار الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے حکومتی اخلاق کا ایسا زبردست نقشہ کھینچا ہے کہ جس کی مثال دنیا کے پردہ پر نہیں مل سکتی۔فرماتا ہے یہ بادشاہ ہو جائے گا۔مگر خدائی بادشاہت کا جوا اپنی گردن پر رکھے گا۔یہ حاکم ہو جائے گا مگر سب لوگوں کے حقوق پورے انـصاف کے ساتھ ادا کرے گا۔گویا اطاعت اللہ اس میں اس وقت پائی جائے گی جب اس کے پاس طاقت ہو گی۔اور شفقت علیٰ خلق اللہ اس میں اس وقت پائی جائے گی۔جب بندے اس کے رحم پر ہوں گے۔غرض کَرِیْم۔ذِیْ قُوَّۃِ۔عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِینٍ۔مُطَاع۔اَمِین رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی صفات ہیں جو ان آیات میںبیان کی گئی ہیں۔ان آیات کے ایک اور معنے بھی ہیں۔اور وہ یہ کہ آپ نے وہ عزت پائی کہ کسی نے کیا پانی ہے۔دنیا کے بادشاہوںکو بھی وہ نصیب نہیں ہے۔ذِیْ قُوَّۃٍ ایسے ہوئے کہ قیصرو کسریٰ کی بادشاہتوں کو الٹ دیا۔مگر ساتھ ہی مَکِیْنٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ بھی ہیں کہ آج تک آپ کی ہتک کرنے والے ذلیل کئے جاتے ہیں۔مُطَاع ہیں کہ جب سب بادشاہوں کے تخت الٹے جا رہے ہیں۔آپ کے تخت کو دوبارہ ایک مامور کے ذریعہ سے قائم کیا جا رہا ہے۔اٰمِیْن ہیں کہ جس کلام کو پہنچانا آپ کے ذمہ لگایا گیا تھا آج تک محفوظ ہے۔اور روحانی طور پر اس کی حفاظت کا سامان کیا جا رہا ہے۔اس میںاگرآپ کی قوتِ قدسیہ کا دخل نہیں تو اور کیاہے۔وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ۰۰۲۳ اور تمہارا ساتھی ہر گز مجنون نہیں۔تفسیر۔چونکہ ایسی پیشگوئیوں کو سن کر بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں۔کہ یہ شخص جو ایسی باتیں کرتا ہے پاگل ہے۔اِس لئے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا اخلاق کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍ تم اس شبہ میں مبتلا نہ ہونا کہ یہ پاگل ہے۔کیونکہ وہ صَاحِبُکُمْ ہے۔تمہارے ساتھ رہا ہے۔کہیں باہر سے