تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 344
فلاں عہدہ دے دیا گیا ہے۔اب کبھی تو اس شخص کو خود بھی معلوم ہوتا ہے کہ مجھے فلاں عہدہ دے دیا گیا ہے۔مگر اس کے آرڈر کے الفاظ کا علم نہیں ہوتا۔ایسی حالت میں وہ خبر دینے والے سے پوچھتا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ آرڈر کے الفاظ کیا تھے۔اگر اسے علم ہو تو بتا دیتا ہے۔اور اگر علم نہ ہو تو معذرت کر دیتا ہے۔لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اسے پہلی دفعہ نئے عہدہ کی خبر ملتی ہے ایسی حالت میں وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ بتاؤ تم نے جو مجھے پیغام آکردیا ہےآیا یہ اپنے مفہوم کے لحاظ سے درست ہے ؟اس وقت اسے الفاظ سے اتنی غرض نہیں ہوتی۔جتنی مفہوم کے درست ہونے سے غرض ہوتی ہے۔تو یہ الگ الگ صورتیں ہیں جو عام طور پر پیش آتی رہتی ہیں۔اب ہمیں غور کر نا چاہیے کہ دشمن کا مطالبہ کیا تھا جس کے متعلق اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کہا گیا۔سو اگر کوئی شخص غور کرے تو ادنیٰ فکر سے بھی یہ بات معلوم کر سکتا ہے کہ دشمن کا سوال یہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نےاِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ کہا ہے یا نہیںیا اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْاس نے کہا ہے یا نہیں۔بلکہ دشمن تو یہ پوچھتا تھا کہ الفاظ چاہے کچھ ہوں سوال یہ ہے کہ ان کا جو مفہوم ہے وہ کب پورا ہوگا۔اسے اِذَایا اَلشَّمْسُ یاكُوِّرَتْ یا اَلنُّجُوْمُ وغیرہ الفاظ سے کوئی بحث نہیں تھی۔وہ کہتا تھا کہ الفاظ خواہ کچھ رکھ لو۔سوال یہ ہے کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ میں اس سورۃ کے الفاظ کی طرف اشارہ نہیں۔بلکہ اس کے مفہوم کی طرف اشارہ ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دشمن کی طرف سے الفاظ کے متعلق بھی بحث کی جاتی ہے مگر جہاں پیشگوئیوں کے متعلق بحث ہو وہاں یہ بحث نہیں ہوتی کہ الفاظ کون سے نازل ہوئے ہیں بلکہ وہاں یہ بحث ہوتی ہے کہ ان الفاظ کا مفہوم کب پورا ہو گا اللہ تعالیٰ دشمنوں کے اس مطالبہ کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ یہ بات جو کہی گئی ہے ایک معزز رسول نے کہی ہے۔اور معزز رسول جھوٹ نہیں بولا کرتا۔اس لئے یہ مفہوم ایک دن پورا ہو کر رہے گا۔پس یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ کفار کی طرف سے الفاظ کے متعلق اعتراض نہیں کہ آیا وہ خدا کی طرف سے ہیں یا نہیں۔بلکہ مفہوم کے متعلق اعتراض ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ یہ پیغام جو تم کو دیا گیا ہے ایک رسول کریم نے دیا ہے۔اِس جگہ اللہ تعالیٰ نے رسول امین نہیں کہا بلکہ رسول کریم کہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں الفاظ کے ضبط کی بحث ہوتی ہے وہاں رسول امین کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔اور جہاں مفہوم کو صحیح طور پر ادا کرنے کا ذکر ہو وہاں رسول کریم کے الفاظ لائے جاتے ہیں۔کیونکہ وہی پیغامبر عزت کا مستحق ہوتا ہے جو پیغام کو صحیح طور پر دوسرے تک پہنچا دیتا ہے۔اگر آقا کچھ کہے اور نوکر جا کر کچھ کہہ دے۔آقا تو یہ کہے کہ مَیں فلاں جگہ کل آئوں گا۔اور وُہ جا کر یہ کہہ دے کہ وہ کہتے ہیں میں نہیں آئوں گا۔تو وہ آقا کی نگا ہوںمیں ذلیل ہو جائے گا۔عزت کے قابل وہی رسول