تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 340

دوسری طرف اسلام کی طرف رغبت بھی ظاہر کر رہے ہیں۔اور یہ دکھاتے ہیں کہ وہ اسلامی راستہ پر چل رہے ہیں۔لیکن ان کا یہ جوش وخروش صرف رسمی اور زبانی ہے۔کیونکہ جہاں ایک رسمی اسلام کی اتباع کا ان کو دعویٰ ہے۔وہاں یہ بھی نظر آتا ہے کہ کام کے وقت وہ اپنے گھروں میں چھپ جاتے ہیں۔اور اسلام کی خاطر کوئی قُربانی نہیں کرتے۔یہ نقشہ لفظًا لفظًا اس وقت کے مسلمانوں پر چسپاں ہوتا ہے۔وہ اسلام کی تعلیم کو چھوڑ چکے ہیں۔مگر باوجود اس کے اسلام پر چلنے کے دعویدار بھی ہیں۔اوراس کی تائید میں خوب نعرے بھی لگاتے ہیں۔لیکن عملًا وہ ہر سچی قربانی سے گریز بھی کر رہے ہیں۔اس گری ہوئی حالت میں بھی اگر مسلمان سچی قربانی کریں جس طرح یورپ کے لوگ کرتے ہیں۔تو وہ اپنی دنیوی عزت کا کثیر حصہ واپس لے سکتے ہیں۔مگر حقیقی عمل کے وقت وُہ کُنّس ہو جاتے ہیں۔یعنی اپنی غاروں میں چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں۔اور دشمن اسلام کی متاع لوٹ کر لے جاتا ہے۔یورپ تو الگ رہا ہندوستان کی غلام اقوام کے مقابلہ پر بھی مسلمان باوجودبعض قوموں سے زیادہ ہونے کے ان کے مقابلہ پر دلیری سے نہیں کھڑا ہو سکتا۔کیونکہ دائمی اور مستقل قربانی سے وہ گھبراتا ہے۔اس لئے پہلی بھبکی کے بعد وہ پیٹھ دکھا کر بھاگ جاتا ہے۔اور میدان ہمیشہ اس سے کمزور لیکن زیادہ منظم جماعت کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔وَ الَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ۰۰۱۸وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ۰۰۱۹ اور رات کو (شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں) جب وہ خاتمہ کو پہنچ جاتی ہے۔اور صبح کو جب وہ سانس لینے لگتی ہے۔حَلّ لُغَات۔عَسْعَسَ عَسْعَسَ الَّیْلُ کے معنے ہیں مَضٰی رات گزر گئی۔چل گئی۔نیز اس کے معنے ہیں اَظْلَمَ۔رات کی تاریکی پورے زور سے چھا گئی۔(اقرب) تَنَفَّسَ تَنَفَّسَ کے اصل معنے ہیں اَدْخَلَ النَّفْسَ اِلٰی رِئَتِہٖ کہ سانس کو پھیپھڑوں میں داخل کیا۔یعنی سانس لیا۔اور جب تَنَفَّسَ الصُّبْحُ کہیں تو معنی ہوتے ہیں تَبَلَّجَ صبح روشن ہو گئی۔(اقرب) تفسیر۔پہلی آیت میں جو بھیانک نقشہ اس زمانہ کے مسلمانوں کا کھینچا گیا تھا۔اور جسے دیکھ کر تباہی کے سوا کوئی انجام نظر نہ آتا تھا۔اب ان آیات میں تسلی دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ تاریکی کا یہ دور دائمی نہ ہو گا۔بلکہ اللہ تعالیٰ رات کو بھی بطور شہادت پیش کرتا ہے۔جب وُہ چلی جائے گی۔اور خاتمہ کے قریب پہنچ جائے گی۔اور صبح کو بھی بطور شہادت پیش کرتا ہے۔جب وہ سانس لے گی۔یعنی اپنے وجود کو ظاہر کرنے لگے گی۔رات کا جانا اور صبح کا