تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 339

سے مراد ہو سکتے ہیں۔اَلْکُنَّسُ اَلْکُنَّسُ اَلْکَانِسُ کی جمع ہے اور اَلْکَانِسُ اُس ہرن کو کہتے ہیں۔جو اپنی غار میں داخل ہو جاتا ہے۔(اقرب) کیونکہ کناس ہرن کی رہائش کی جگہ کو کہتے ہیں۔تفسیر۔فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ۔الْجَوَارِ الْكُنَّسِ میں مسلمانوں کے اندر آخری زمانہ میں تین صفات پیدا ہو جانے کی پیشگوئی فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ۔الْجَوَارِ الْكُنَّسِ اس میں گواہ کے طور پر ان ہستیوں کو پیش کیا گیا ہے جن کی تین صفات ہیں۔وہ خُنسؔ ہیںیعنی پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔آگے کو چلتی ہیں۔اور چھپ جاتی ہیں۔ان صفات والی ہستیوں سے مراد اس زمانہ کے مسلمان ہیں۔یہ تین صفات وُہ ہیں جو قوم کی تباہی کا مؤجب ہوتی ہیں۔(۱)خطرہ کے وقت پیچھے ہٹ جانا (۲)بلا غور وفکر آگے بڑھتے چلے جانا (۳)سب کام چھوڑ چھاڑ کر گھروں میں نکمّے بیٹھ جانا۔چونکہ پہلی آیت میں عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا اَحْضَرَتْ فرمایا تھا۔یعنی انسان نے جو کچھ کیا ہے اس کا نتیجہ ضروردیکھ لے گا۔اس کے اس زمانہ کے اعمال کو بتاتا ہے۔کہ وہ اس وقت تین پہلو رکھتے ہوں گے۔یعنی اوّل مسلمان مغربیت سے ڈر کر میدان سے بھاگ جائیں گے۔اور غلط راستہ اختیار کر لیں گے۔پھر اس کے ساتھ ہی عقل و دانش کو ترک کر کے رسمی اسلام کو بھی پیش کرتے رہیں گے۔لیکن باوجوداس کے حقیقی قربانی ان سے مفقود ہو گی۔وہ چھپ کر گھروں میں بیٹھ جائیں گے۔اور دشمن کا روحانی مقابلہ نہ کریں گے۔بھلے بُرے سے کچھ تعلق نہ رکھیں گے۔اس وجہ سے اسلام کمزور ہو جائے گا۔اور دشمنانِ اسلام غالب آتے چلے جائیں گے۔ادنیٰ تدبر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت ایسی ہی ہے اور یہی زمانہ اس سورۃ میں مذکور ہے۔اوّل تو سب کے سب مسلمان خُنّس ہیں یعنی سیدھے راستہ سے بھٹک گئے ہیں۔اور نقطہء صداقت سے واپس ہٹ گئے ہیںیعنی انہوں نے کفر کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔اور اسی طریق کو وہ خدمت قوم و خدمت ملک سمجھتے ہیں۔یورپ کے طریق اور یورپ کے رویہ کو اور اس کے فلسفہ کو ان لوگوں نے اپنا راہ نما بنا لیا ہے اور اس کےخلاف کو موجب خسران وتباب سمجھتے ہیں۔درحقیقت وُہ نام کے مسلمان ہیں اور انہوں نے مغربیت کا نام اسلام رکھ لیا ہے۔اب یہ حال ہے کہ ایک ہی طور و طریق رکھ کر ایک آدمی عیسائی کہلاتا ہے اور ویسا ہی طور و طریق رکھ کر دوسرا آدمی مسلمان کہلاتا ہے۔محقّق دیکھ کر حیران ہوتا ہے۔کہ یہ کیا عجیب بات ہے کہ وہی طور و طریق مسیحیت بھی کہلاتا ہے۔اور اسلام بھی۔لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی یہ حالت ہے کہ جہاں وہ حقیقت میں اسلام سے ہٹ گئے ہیں۔ظاہر میں وہ اُسی راستہ پر چلے جا رہے ہیں۔اور کہلاتے مسلمان ہی ہیں۔گویا ایک طرف اسلام کو چھوڑ رہے ہیں۔اور