تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 335
میں اس آیت کا یہ مطلب ہو گا کہ یہ لوگ دین کو پھاڑ کر رکھ دیں گے اور اُس کی ایسی چھان بین کریں گے کہ اپنے خیال میں اس کی کھال اُدھیڑ دیں گے۔چنانچہ دیکھ لو اس زمانہ میں دین کے متعلق ایسی ایسی بحثیں ہوئی ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں۔پھر ہر مذہب والے نے اپنے اپنے مذہب کا ایسا تجزیہ کیا ہے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں رہی۔مثلاً بائیبل ہے عیسائیوں نے اس کی کھال اُدھیڑ کر رکھ دی ہے اور ثابت کیا ہے کہ فلاں بات موسیٰ ؑ کی نہیں بلکہ ہارونؑ کی ہے۔یا یہ لفظ فلاں زبان کا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں فلاں ز بان تھی اس لئے معلوم ہوا کہ یہ لفظ بعد میں ملایا گیا ہے۔غرض ایسا تجزیہ کیا ہے کہ ایک ایک بات کو خود عیسائیوں نے کھول کر رکھ دیا ہے۔اس چیر پھاڑ میں اگر کوئی زندہ وجود بچا ہے تو وہ صرف قرآن ہے۔ویدوں کے متعلق بھی خود ہندو محققین نے بہت بڑی تحقیقاتیں کی ہیں اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ویدوں میں فلاں فلاں زبان شامل ہے اور یہ زبان فلاں فلاں سنہ میں بولی جاتی تھی۔اسی طرح ویدوں کی تاریخ اور اُن کی ترتیب کے متعلق ایسا تجزیہ کیا ہے کہ اُن کی کھال اُدھیڑ دی ہے۔اس چیر پھاڑ سے صرف قرآن ہی محفوظ رہا ہے اور کوئی کتاب محفوظ نہیں رہی۔مگر چونکہ پیشگوئی تھی کہ بہرحال آسمانی علوم کی کھال اُتاری جائے گی اور اُن کے اسرار کو منکشف کیا جائے گا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ کے ماتحت اور کتابوں کی چیر پھاڑ کا کام تویورپ والوں کے سپرد کر دیا اور قرآنی علوم کے انکشاف کا کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السَّلام کے سپرد کر دیا۔کیونکہ وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ کی پیشگوئی نے سب پر چسپاں ہونا تھا مگر باقی کتب کا چونکہ اعزاز مدنظر نہیں تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو قصابوں کے سپرد کر دیا کہ تم اُن کی کھالیں اُدھیڑو۔اور قرآن کا چونکہ اعزاز مدنظر تھا اس لئے اُسے بجائے غیروں کے ہاتھوں میں دینے کے اپنے ایک برگزیدہ کے ہاتھ میں دے دیا کہ تم اس کے معارف ظاہر کرو اور اس کے حقائق دنیا پرروشن کرو۔وَ اِذَا الْجَحِيْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ۰۰۱۳ اور جب جہنم کو بھڑکا یا جائے گا۔حَلّ لُغَات۔سُعِّرَتْ سُعِّرَتْ سَعَّرَ سے مجہول کا مؤنث کا صیغہ ہے۔اور سَعَّرَ النَّارَ وَالْحَـرْبَ کے معنے ہوتے ہیں اَوْ قَدَ ھُمَا وَاَشْعَلَھُمَا وَھَیَّجَھُمَا کہ جنگ کو یا آگ کو بھڑکایا (اقرب) پس اِذَا الْجَحِيْمُ سُعِّرَتْ کے معنے ہوں گے جب جہنم کو بھڑکایا جائے گا۔