تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 330

بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ اس کو بچایا جائے اور اس کے بچہ کو تلف ہونے دیا جائے۔لیکن اگر کوئی خشیتہ املاق کی وجہ سے عزل کرتا یا حمل کونکلواتا ہے تو وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔بہرحال عزل کے جواز یا عدم جواز کا فتویٰ عورت کے حالات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اگر ضرورت کے موقع پر ایسا کیاجاتا ہے تو یہ جائز ہے۔اگر بلاضرورت کیا جاتا ہے تو ناپسندیدہ ہے اور اگر نسل انسانی کے انقطاع کے لئے ایسا کیا جاتا ہے تو حرام ہے۔مثلاً یوروپ والے صرف نسل انسانی کے انقطاع کے لئے ایسا کرتے ہیں اور چونکہ اس کے نتیجہ میں قوم تباہ ہو تی ہے اس لئے یہ فعل یقیناً ناجائز اور حرام ہو گا۔اور اگر کوئی بلاضرورت کرتا ہے تووہ ایک مکروہ کام کرتا ہے اور اگر ضرورت حقہ پر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو وہ ایک جائز کام کرتا ہے۔بہرحال اس مسئلہ کے تینوں پہلو ہیں۔جب عزل کو قومی تباہی کا موجب بنا دیا جائے تو یہ حرام ہو جاتا ہے۔جب عزل قومی تباہی کا موجب نہ ہو لیکن اس کی کوئی ضرورت بھی نہ ہو تو یہ مکروہ ہوتا ہے۔اور جب کسی عورت کی جان بچانے کے لئے یا کسی ایسی ہی ضرورت کے لئے جسے شریعت جائز قرار دیتی ہو ایسا کیا جائے تو یہ جائز ہوتا ہے۔پس ہرعزل وأدلخفی کے ماتحت نہیں آسکتا۔وہی عزل اس جرم کا مرتکب بناتا ہے جو قومی تباہی کا موجب بن جائے جیسے فرانس وغیرہ ممالک میں اس کا رواج ہو رہا ہے اور جس کا نتیجہ یہ ہو ر ہا ہے کہ وہاں کی آبادی خطرناک طور پر کم ہو گئی ہے اور وہ قوم دوسروں کے مقابلہ میں بالکل مقہور اور ذلیل ہو گئی ہے اسی لئے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تَزَوَّجُوا لْوَلُوْدَ الْوَدُوْدَ (نسائی کتاب النکاح باب کراھیۃ تزویج العقیم) کہ جو عورتیں کثرت سے بچے جننے والی ہوں اُن سے شادیاں کیا کرو کیوںکہ اس طرح قوم کی ترقی ہوتی ہے۔وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ کو اگر قیامت پر چسپاں کیا جائے تو سُئِلَتْ کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں (۱)وائد سے پوچھا جائے گا(۲)یا موء دہ کو دوبارہ زندہ کر کے پوچھا جائے گاخواہ بعد میں وحوش کی طرح اُسے فنا کر دیا جائے مگر بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْاسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وائد سے پوچھا جائے گا۔وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْکی پیشگوئی کا ظہور جس طرح اس سورۃ کی اور تمام پیشگوئیاں موجودہ زمانہ میں پوری ہو چکی ہیں اسی طرح اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْکی پیشگوئی بھی پوری ہو چکی ہے۔کیونکہ اس میں بتایا گیا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا جبکہ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کی قانوناً ممانعت کر دی جائے گی اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو اُسے سزا دی جائے گی۔چنانچہ ۱۸۷۲ء میں ایسا قانون حکومت انگریزی نے جاری کر دیا اور اس طرح یہ علامت بھی جو آخری زمانہ سے تعلق رکھتی تھی پوری ہو گئی۔