تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 326

غضب پر غالب ہوتی ہے۔پس اگر دونوں حدیثیں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوں اور ہم کوئی فیصلہ نہ کر سکیں کہ ان میں سے کن کو ترجیح دی جائے تو درائت یہی کہے گی کہ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ کے اصول کے مطابق جنت میں جانے والی حدیثوں کو ترجیح دے دو۔لیکن اگر یہ نہ ہو تو میرے نزدیک اس بات کو مدنظر رکھ کر کہ دوزخی جب جنت میں جائے گا تو اس کا وہ مقام نہیں ہو سکتا جو براہِ راست جنت میں جانے والے کا ہو سکتا ہے یہ ممکن ہے کہ شروع سے جنتی اور بعد میں جنت میں جانےوالے میں یہ ایک امتیاز ہو کہ شروع سے جنتی کی صغیر اولاد بھی اُس کے پاس رکھی جائے خواہ ایک تابع کی شکل میں۔اور بعد میں آنے والے کی صغیر اولاد فنا کر دی جائے کیونکہ وہ اپنی ذات میں مستحق نہیں اور بالواسطہ استحقاق کا فائدہ اُسے پہنچا نہیں۔قیامت کو بچوں کی طرف نبی کی بعثت اگرا س حدیث کو اصل قرار دے لو جس میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بچوں کی طرف دوبارہ نبی مبعوث ہو گا (دیکھو مسند احمد بن حنبل حدیث اسود بن سریع بحوالہ روح المعانی زیر آیت مَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا) تو پھر یہ بحث ہی فضول ہے کیونکہ اس کو صحیح تسلیم کرنے کی صورت میں نہ مومنوں کے بچوں کا سوال رہتا ہے اور نہ کافروں کے بچوں کا سوال رہتا ہے۔پھر حدیث معراج کے یہ معنے ہوں گے کہ یوم البعث تک تو تمام بچے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس رہیں گے اور وہ جنت کا کھلونا بنے رہیں گے پھر ان کی طرف نبی مبعوث کیا جائے گا اور وہ اس پر ایمان لا کر یا اس کی تکذیب کر کے جنت یا دوزخ میں چلیں جائیں گے۔لیکن اگراس حدیث کے کوئی دوسرے معنے کئے جائیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی کو ترجیح دی ہے کہ فطرتی ایمان پر وہاں فیصلہ کر دیا جائے گا تو پھر اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ دوزخی نے تو بہرحال دوزخ میں جانا ہے اگر یہ مان لیا جائے کہ اس کی صغیر اولاد کو بطور ترحم مٹا دیا جائے گا تو اس میں کوئی ظلم نہیں۔مومنوں کے بچوں کا ان کی دلجوئی کے لئے کسی شکل میں جنت میں جانا عین رحم ہے لیکن کافر چونکہ اپنے دل کا چَین دوزخ میں پہلے ہی کھو چکا ہو گا اس لئے اس کی صغیر اولاد کو مٹا دیا جائے گا اور یہ اس پر رحم ہو گا ظلم نہ ہو گا گویا مومنوں کی صغیر اولاد تو اپنے ماں باپ کے ساتھ جنت میں رکھی جائے گی لیکن کفار کی صغیر اولاد جانوروں کی طرح مٹی کر دی جائے گی ان معنوں کو تسلیم کرنے کی صورت میں دونوں اقوال میں تطبیق ہو جاتی ہے اور حضرت امام احمد صاحب سرہندی کی رائے سب سے زیادہ صحیح اور درست معلوم ہوتی ہے۔مومنوں کے چھوٹے فوت شدہ بچوں کا جنت میں مقام باقی رہا یہ کہ وہ جنت میں کس حیثیت سے رہیں گے؟ یہ صرف ایک علمی سوال ہے۔ورنہ جس طرح خدا چاہے رکھے اس میں ہمارا کیا دخل ہو سکتا ہے مگر مجھے قرآن کریم