تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 322

بعض کہتے ہیں کہ وہ جنت میں خدّام کے طور پر ہوں گے اور ماں باپ اُن کو دیکھ دیکھ کر خُوش ہوں گے پس وہ وہاں بطور استحقاق کے نہیں جائیں گے بلکہ کام اور خدمت کے لئے جائیں گے۔(اوپر کے اقوال و احادیث تفسیر روح المعانی سے نقل کی گئی ہیں) اسی طرح مسند اما م احمد بن حنبل میں ایک روایت آتی ہے جس کی آخری راویہ ایک عورت ہیں یعنی خنساء کی چچی یا پھوپھی ان سے روایت ہے کہ وہ کہتی ہیں قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَنْ فِی الْجَنَّۃِ۔میں نے کہا یا رسول اللہ جنت میں کون کون جائے گا؟ قَالَ اَلنَّبِیُّ فِی الْجَـنَّۃِ آپ نے فرمایا نبی جنت میں جائے گا وَالشَّھِیْدُ فِی الْجَـنَّةِ اور شہید جنت میں جائے گا وَالْمَوْلُوْدُ فِی الْجَـنَّةِ اور چھوٹا بچہ بھی جنت میں جائےگا وَالْمَوءٗ دَۃُ فِی الْجَنَّۃِ اور موؤدۃ بھی جنت میں جائے گی۔اسی طرح ابن ابی حاتم نے حسن سے مرسل روایت کی ہے قِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَنْ فِی الْجَنَّۃِ قَالَ اَلْمَوْئٗ دَۃُ فِی الْجَنَّۃِ آپ سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ جنت میں کون جائے گا؟ آپ نے فرمایا موء ٗدہ جنت میں جائے گی۔اسی طرح ابن ابی حاتم نے ابن عباسؓ سے بھی یہ روایت کی ہے کہ اَطْفَالُ الْمُشْرِکِیْنَ فِی الْجَنَّۃِ فَمَنْ زَعَمَ اَنَّـھُمْ فِی النَّارِ فَقَدْ کَذَبَ یَقوْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاِذَا لْمَوئٗ دَۃُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ(ابن کثیر زیر آیت ھذا)۔یہ وہ پرانے اقوال ہیں جو مومنوں اور مشرکوں کے بچوں کے متعلق ہمیں احادیث اور آئمہ سابقین کی کتب میں سے ملتے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ مومنوں کے بچوں کے جنت میں جانے کے متعلق قریبًاقریبًاتمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔صرف دو حدیثیں ایسی ہیں کہ اگر وہ صحیح ہوں تو اس مسئلہ کو کسی قدر مشتبہ کر دیتی ہیں۔جن میں سے ایک وہ حدیث ہے جس میں حضرت خدیجہؓ کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے دو بچے جوجاہلیت میں مر گئے تھے اُن کا کیا حال ہے آپ نے فرمایا وہ دوزخ میں ہیں۔پس یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مومنوں کے بچے بہر صورت جنت میں جائیں گے تو حضرت خدیجہؓ کے ایک سوال کے جواب میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ کیوں فرمایا کہ وہ دونوں بچے دوزخ میں ہیں۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاکے متعلق روایت آتی ہے کہ جب آپ نے ایک انصاری بچے کے متعلق فرمایا کہ اس کا انجام بڑا مبارک ہوا ہے وہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا تھی۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَوْ غَیْرَ ذَالِکَ یا شاید وہ دوزخی ہو اور پھر یہ دلیل بھی دی کہ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی خَلَقَ لِلْجَنَّۃِ اَھْلًا خَلَقَھُمْ لَھَا وَھُمْ فِیْ اَصْلَابِ اٰبَآئِ ھِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ اَھْلًا خَلَقَھُمْ لَھَا وَھُمْ فِیْ اَصْلَابِ اٰبَآئِ ھِمْ (مسلم کتاب القدر باب معنی کل مولود یولد علی الفطرة و حکم