تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 312

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ۰۰۸ اور جب (مختلف) نفوس جمع کئے جائیں گے۔تفسیر۔اس آیت میں رسل ورسائل اور سفر کی آسانیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آخری زمانہ میںبعض ایسی چیزوں کی ایجاد عمل میں آجائے گی جن سے لوگ ایک دوسرے کے بالکل قریب ہو جائیں گے۔چنانچہ پہلی چیز جو اس زمانہ میں قرآن کریم کی اس پیش کردہ صداقت کو ظاہر کر رہی ہے وہ ریل ہے۔ریل کا ایک ڈبہ ہوتا ہے لیکن اگر غور کرو تواسی ایک ڈبہ میں کوئی چینی بیٹھا ہوتا ہے کوئی انگریز بیٹھا ہوتا ہے۔کسی طرف بنگالی بیٹھا دکھائی دیتا ہے اور کسی طرف پٹھان بولتا نظر آتا ہے۔اِسی طرح پنجابی بھی اسی ڈبہ میں موجود ہوتا ہے۔غرض مختلف علاقوں کے رہنے والے اور مختلف زبانوں کے بولنے والے لوگ ریل کے ایک ڈبہ میں موجود ہوتے ہیں۔پہلے زمانہ میں بڑی مشکل سے دوسرے علاقہ یا دوسرے ملک کے لوگ نظر آیا کرتے تھے مگر اب ذرائع رسل ورسائل اور آمدورفت میں اس قدر آسانی اور سہولت پیدا ہو گئی ہے کہ ہندوستا ن کے آدمی امریکہ میں نظر آجاتے ہیں اور امریکہ کے ہندوستان میں نظر آجاتے ہیں۔پھر تارؔ۔ریڈیو اور ڈاکؔ خانہ یہ تو ایسی چیزیں ہیں جنہوں نے وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ کی پیشگوئی کو نہایت واضح طور پر پورا کر دیا ہے۔ہم گھر میں آرام سے بیٹھے ہوتے ہیں۔اور ریڈیو پر کبھی چینیوں کی تقریریں سن رہے ہوتے ہیں کبھی جاپانیوں کے لیکچر سُن رہے ہوتے ہیں۔کبھی جرمنوں اور کبھی انگریزوں کی باتیں ہمارے کانوں تک پہنچ رہی ہوتی ہیں گویا دوسرے الفاظ میں ہم اور ایک چینی ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں یا ہم اور ایک جاپانی ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہوتےہیں یا ہم اور ایک انگریز ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں یا ہم اور ایک جرمن ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ اس زمانہ میں ایک قسم کے علوم پھیل جائیں گے چنانچہ دنیا میں مغربی علوم کا اب اس قدر غلبہ ہو گیا ہے کہ نفوس انسانی کا آپس میں جوڑ اور اتحاد پیدا ہونا بالکل آسان ہو گیا ہے۔اس زمانہ میں یہ علوم اتنے غالب آ گئے ہیں کہ ساری دنیا پر چھا گئے ہیں۔بالخصوص یوروپین فلسفہ نے انسانی دماغ کو ایک خاص رنگ میں ڈھال دیا ہے اب اگر ایک چینی سو چتا ہے تو مغربی رنگ میں سوچتا ہے جاپانی سوچتا ہے تو مغربی رنگ میں سوچتا ہے عرب سوچتا ہے تو مغربی رنگ میں اور پٹھان سوچتا ہے تو وہ بھی مغربی رنگ میں۔حالانکہ جُدا جُدا قومیں ہیں۔جُدا جُدا زبانیں ہیں مگر مغربی فلسفہ اور مغربی تہذیب سب پر چھا گئی ہے۔اور مختلف