تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 300

خاندانی سمجھے جاتے تھے اُن کا رسوخ جاتا رہے گا (۴)یا امراء کا اثر عوام پر سے اُٹھ جائے گا (۵)یا یہ کہ علماء مذہبی کا رسوخ مٹ جائے گا۔یہ سب علامات ایسی ہیں جو آج کل پوری ہو چکی ہیں۔وَ اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ۪ۙ۰۰۴ اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔حَلّ لُغَات۔اَلْجِبَالُ اَلْجِبَالُ اَلْجَبَلُ کی جمع ہے اور اَلْجَبَلُ کے معنے ہیں کُلُّ وَتَدٍ فِی الْاَرْضِ عَظُمَ وَطَالَ۔یعنی اونچے ٹیلے کو جَبَل کہتے ہیں اور جِبَالَ خِلَافُ السَّاحِلِ کو بھی کہتے ہیں۔یعنی اندرونِ ملک کو۔اور جَبَل کے ایک معنے سَیِّدُ الْقَوْمِ وَعَالمُھُمْ کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ عرب کہتے ہیں فُلَانٌ جَبَلَ قَوْمِہٖ کہ فلاں اپنی قوم کا جبل ہے یعنی اس قوم کا سردار اور بڑا عالم ہے۔(اقرب) سُیِّرَتْ سُیِّرَتْ سَیَّرَ سے مؤنث کا مجہول کا صیغہ ہے اور سَیَّــرَ کے معنے ہوتے ہیں جَعَلَہٗ سَائِرًا۔اس کو چلایا اور سَیَّرَ الْجُلَّ عَن ظَھْرِ الدَّآبَّۃِ کے معنے ہوتے ہیں اَلْقَاہُ۔جانور کا جھول اتار کر پیٹھ پر سے نیچے پھینک دیا اور سَیَّرَ الْمَثَلَ کے معنے ہوتے ہیں جَعَلَہٗ یَسِیْرُ بَیْنَ النَّاسِ۔کسی محاورہ کو پھیلا دیا اور سَیَّرَہٗ مِنْ بَلَدِہٖ کے معنے ہیں اَخْرَجَہُ وَاَجْلَاہُ۔اس کو اپنے شہر سے نکال دیا اور جلاوطن کر دیا (اقرب)پس وَ اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ کے معنے ہوں گے (۱)جب پہاڑ چلائیں گے (۲)جب علماء اور لیڈر اپنے ملکوں سے نکالے جائیں گے۔تفسیر۔اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْکی پیشگوئی کے مطابق پہاڑوں کا اڑایا جانا اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ جب پہاڑ اپنی جگہ سے چلائے جائیں گے یعنی پہاڑوں کو اُڑا اُڑا کر رستے بنائےجائیں گے۔اس صورت میں سُیِّـرَتْ کے لفظ کا استعمال ایسا ہی سمجھا جائے گا جیسے کہتے ہیں پرنالے چلتے ہیں حالانکہ پرنالہ نہیں چلتا بلکہ پانی چل رہا ہوتا ہے۔اسی طرح سُیِّرَتْ الْجِبَالُ کے یہ معنے لئے جائیں گے کہ پہاڑوں کو ڈائنامیٹ سے اُڑا اُڑا کر راستے تیار کئے جائیں گے چنانچہ اس کا ثبوت ہر پہاڑ پر موجود ہے پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر اور ڈائنامیٹ سے اُڑا اُڑا کر سڑکیں اور راستے بڑی کثرت سے تیار کئے گئے ہیں۔اور ڈلہوزی۔شملہ۔مری۔کشمیر۔منصوری وغیرہ تمام پہاڑوں پر یہ راستے دیکھے جا سکتے ہیں۔پس اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ کے یہ معنے ہوئے کہ پہاڑوں پر رستے تیار کئے جائیں گے جن پر لوگ چلیں گے گویا ان معنوں کی صورت میں یہاں سیّر کی نسبت مقام کی جگہ صاحب مقام کی