تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 260
لئے کہ ان دونوں میں نسبت پائی جاتی ہے۔جب قرآن پر عمل کرنے کے نتیجہ میں لوگ بَرَرَۃ بن جائیں گے تو وہ قرآن کو نئے سرے سے مطہر بنائیں گے اس لئے کہ جب انسان نیکو کار ہو گا۔قرآن پر عمل کرے گا۔اللہ تعالیٰ کے احکام کو مدنظر رکھے گا تو یہ لازمی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس پر روحانی فیوض کا نزول ہو گا کیوں کہ جب انسان نیکیوں میں حصّہ لیتا اور اللہ تعالیٰ کے قرب میںبڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو اُس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیوض نازل ہوتے ہیں۔جب بَرَرَۃ پر قرآن کریم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں فیوض نازل ہوں گے تو وہ ان فیوض کو قرآن کریم کی طرف منسوب کریں گے اور اس طرح قرآن کریم کو ایک نئے رنگ کی طہارت حاصل ہو جائے گی جیسے قرآن کریم تو پہلے ہی مطہر تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مبعوث ہو کر اسے جس طرح مطہر کیا اس سے پہلے اور کسی نے نہیں کیا مگر سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کس نے بَرَرَۃ میں سے بنایا تھا؟اسی قرآن نے گویا قرآن نے مسیح موعودؑ کو پاک کیا اور مسیح موعودؑ نے قرآن کی طہارت کے پوشیدہ اوصاف کو ظاہر کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے پہلے لوگ قرآن کریم کی طرف کئی قسم کی غلط باتیں منسوب کیا کرتے تھے مگر آپ نے اُن تمام غلط عقائد اور غلط تعلیمات کا باطل ہونا ثابت کر دیااور اس طرح قرآن کو مطہر بنا دیا۔جب آپ نے قرآن کو مطہر بنایا تو یہ لازمی بات تھی کہ اس کے نتیجہ میں آپ کی نیکیوں میں اَور بھی اضافہ ہو جاتا پس قرآن کی تیسری صفت یہ ہے کہ وہ مطہر ہے اُس پر عمل کرنے والے بَرَرَۃ میں شامل ہو جاتے ہیں اور بَرَرَۃ میں شامل ہونے والے پھر قرآن کو مطہر کرتے ہیں اور قرآن اُن کو پھر نیکیوں میں بڑھاتا ہے اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے۔مذکورہ بالا امور سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس کلام کی عظمت کسی ظاہری سامان کی محتاج نہیں بلکہ قلوب کی صفائی کے ساتھ قرآن کریم کی عظمت قائم ہوتی ہے۔گویا بتایا گیا ہے کہ اس قرآن سے وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو نیک ہوں مگر وہ لوگ فائدہ نہیں اٹھا سکتے جو نیک نہیں ہیں۔اور جب یہ بات ہے تو پھر یہ کوئی سوال ہی نہ رہا کہ ظاہر میں فلاں شخص بڑا ہے اور فلاں شخص چھوٹا۔فلاں شخص عالم ہے اور فلاں شخص جاہل۔کیونکہ یہاں ظاہری بڑائی یا ظاہری علم یا ظاہری عزّت کا کوئی سوال نہیں۔قرآن ایسے ہی ہاتھوں میں ترقی کرے گا جو سَفَرَۃ ہوں گے۔کِرَامٌ ہوں اور بَرَرَۃ کے اوصاف اپنے اندر رکھتے ہوں گے خواہ وہ ظاہری طور پر بڑوں میں سے ہوں یا چھوٹوں میں سے۔امیروں میں سے ہوں یا غریبوں میں سے۔چنانچہ مکّہ کے چوٹی کے خاندانوں میں سے بھی اللہ تعالیٰ نے کئی لوگوں کو خدمت کی توفیق دی اور غرباء میں سے بھی کئی لوگوں نے اسلام کی شاندار خدمات سرانجام دیں۔چنانچہ دیکھ لو