تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 247

طرف توجہ کریں اور بعد میں آنیوالا اپنے موقع کا انتظار کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شریعت کے اس حکم پر عمل کیا اور خدا کے حکم کو پورا کر دیا۔غیب کا آپؐ کو علم نہیں تھا کہ آپؐ کہہ سکتے کہ کس کو تبلیغ کرنا وقت کو ضائع کرنا ہے اور کس کو تبلیغ کرنا وقت کو صحیح طور پر استعمال کرنا ہے ایک وقت وہ تھا کہ بلالؓ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے لئے تکلیفیں اٹھا رہا تھا۔جلتی ریت پر اُس کو لٹایا جاتا۔کُھردرے پتھروں پر اس کو گھسیٹا جاتا اور نوجوان اُس کے ننگے سینہ پر چڑھ چڑھ کر کُودتے تا کہ اُسے اسلام سے پھرا دیں (اسد الغابۃ بلال بن رباح)اور عمرؓ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مارنے کے لئے تلوار لئے پھرتے تھے(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام اسلام عمر بن الخطاب) لیکن بعد کے واقعات نے کیابتایا۔بے شک بلالؓ کا انجام بہت ہی اچھا ہوا مگر جس مقام کو عمرؓ پہنچے بلالؓ تو نہیں پہنچے۔پس محض اس لئے کہ کوئی شخص اُس وقت کافر تھا اور کوئی دوسرا شخص اُس وقت مسلمان تھا اُس کو بناء قرار دیتے ہوئے شریعت کا ظاہری حکم محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کِس طرح توڑ سکتے تھے۔آپؐ کو کیا معلوم تھا کہ وہ ظاہر میں کافر نظر آنے والے لوگ آئندہ کیا بننے والے تھے۔چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ اُن میںحضرت عباسؓ بھی تھے(تفسیر فتح البیان الجزء الخامس عشر صفحہ ۷۶)۔اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ابنِ اُمّ مکتوم عباسؓ کے درجہ کو نہیں پہنچے۔حضرت عباسؓ سے جو شوکت اسلام کو پہنچی اور خلفائِ اسلام ان کی زندگی میں جس طرح اُن کا مشورہ لیتے اور اس پر عمل کرتے تھے وہ اُن کے عالی مقام پر شاہد ہے۔پس مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤى۔اَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى میں خدا تعالیٰ نے عام طریق استدلال سے بھی اِس اعتراض کو ردّ کر دیا پھر اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى۔فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰى کہہ کر اسی قسم کے تہکم والے کلام کی طرف دوبارہ رجوع کیا اور کفار کا یہ بقیہ اعتراض دُہرایا کہ لو جی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف توجہ نہیں کرتا اُس کی طرف بوجہ اُس کے عالی مرتبہ ہونے کے آپؐ بڑی توجہ کرتے ہیں۔اِس اعتراض کو بھی ھزء اور تہکم کے طور پر اِس طرح دُہرایا گیا ہے گویا اِس اعتراض کی صِحّت کو قبول کر لیا گیا ہے بعینہٖ اسی طرح جس طرح وہ شخص جس کا انصاف ظاہر ہو معترض کے جواب میں کہتا ہے۔ہاں ہاں مَیں تو ظالم ہوں ہی لیکن اس اعتراض کے دُہرانے کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ مرے وجود کی طرف اِس اعتراض کا منسوب ہونا ہی اِس کے غلط ہونے کا ثبوت ہے۔اِس جگہ اِس اعتراض کے نقل کرنے سے بھی یہی مراد ہے کہ ایسا ہر گز نہیں۔چنانچہ پہلے اعتراض کی طرح یہاں بھی بعد میں اس اعتراض کے ردّ کرنے کی عقلی دلیل بیان فرما دی اور فرمایا کہ وَ مَا عَلَيْكَ اَلَّا يَزَّكّٰى یہ اعتراض ہی بالبداہت غلط ہے۔تیرے متعلق یہ کہنا خلافِ عقل بات ہے۔اگر یہ لوگ سمجھ سے کام لیں تو ان کومعلوم ہو سکتا ہے کہ اُن کفار کا جو مجلس میں بیٹھے تھے ہدایت پانا یا نہ پانا نہ تیرے اختیار میں ہے نہ تیرے سپُرد ہے۔گویا پہلی