تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 240
طرف ہی توجہ رکھتے ہو غریبوں کو اپنی خاطر میں ہی نہیں لاتے۔ابن ام مکتوم کے آنے اور بیجا دخل پر عبوس و تولیٰ اختیار کرنے سے آنحضرت ؐ کے بہترین اخلاق کا اظہار غرض اُن چاروں باتوں میں سے جن کو میں تفصیل کے ساتھ اوپر بیان کر چکا ہوں اِس موقعہ پر ایک ہی بات چسپاں ہوتی ہے۔میرے نزدیک عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہی ہے اور میرے نزدیک ایک اندھے کے آنے پر آپ کاعبوس اور تولّی اختیار کرنا اعلیٰ درجے کا قابلِ تعریف فعل ہے اور یہ آیت بھی آپ کے اخلاق کی تعریف کے لئے ہی نازل ہوئی ہے مذّمت کے لئے نازل نہیں ہوئی۔مذمّت والے معنے کر کے آیات کی ترتیب قائم ہی نہیں رہتی مَیں نے بتایا ہے کہ ان آیات میں غائب کے صیغے شروع ہوتے ہیں اور تھوڑی دیر کے بعد ہی مخاطب کے صیغے شروع ہو جاتے ہیں۔صیغوں کی یہ تبدیلی کسی حکمت کے بغیر نہیں ہوسکتی اور وہ حکمت یہی ہے کہ پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی گئی ہے اور پھر کفار یا بعض نا تربیت یافتہ مسلمانوں کے دلوں میں اِس واقعہ سے جو وساوس پیدا ہوئے تھے یا ہو سکتے تھے اُن کا ازالہ کیا گیا ہے اوربتایا گیا ہےکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اُس کے احکام کے بالکل مطابق تھا آپؐ پر اعتراض کرنے والوں کی اپنی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اُمراء اور غرباء میں تفاوت کرتے ہیں۔وہ بڑوں اور چھوٹوں میں امتیاز روا رکھتے ہیں مگرہمارا رسول ایسا نہیں ہے پس عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرنے کے بعد وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤى میں معترضین کو مخاطب کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ تمہارا اعتراض بالکل بےہودہ ہے تمہیں کون سا یقینی علم اِس بات کا ہے کہ ابن اُم مکتوم کی طرف اگر توجہ کی جاتی تو وہ ضرور فائدہ اٹھاتا یا تمہیں کون سا الہام ہوا ہے کہ ابن ام مکتوم کا فائدہ اٹھانا زیادہ قرینِ قیاس تھا۔صرف تمہارا قیاس ہی ہے کہ اس کی طرف توجہ کرنا زیادہ بہتر تھا۔اور جب یہ صرف قیاس تھا کسی یقینی اور قطعی علم پر اِس کی بنیاد نہیں تھی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقدم کو مقدم رکھا اور اکرامِ ضیف کے حکم کو بھی نظر انداز نہ ہونے دیا اور ابن ام مکتوم کی دخل اندازی پر ایسے رنگ میں اظہار ناراضگی کیا جس سے اندھے کو کوئی خاص تکلیف نہیں ہو سکتی تھی۔پس آپؐ نے جو کچھ کیا بالکل درست کیا۔لیکن اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے والو! تمہارے اپنے اخلاق یہی ہیں مگر تم الزام ہمارے رسول پر لگا رہے ہو۔انبیاء ؑ پر الزام لگانا یا اُن پر کوئی بے جا اعتراض کرنا بہت خطرناک ہوتا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء ؑکے متعلق بہت بڑی غیرت رکھتا ہے۔اسی غیرت کا مظاہرہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ کمزوری خود تمہارے اندر پائی جاتی ہے اور تمہارے اپنے