تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 239

کو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں چنانچہ واقعہ میں اگر دُنیا پر غور کر کے دیکھا جائے تو لوگوں کے دلوں میں اس بات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے کہ کسی امیر شخص سے اُنہیں گفتگو کرنے کا موقعہ مل جائے مگر اللہ تعالیٰ کے انبیاء ان باتوں کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام ایک دفعہ لاہور یا امرتسر کے سٹیشن پر تھے کہ پنڈت لیکھرام بھی وہاں آپہنچے اور اس نے آپ کوآکر سلام کیا۔چونکہ پنڈت لیکھرام آریہ سماج میں بہت بڑی حیثیت رکھتے تھے اس لئے جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ تھے وہ بہت خوش ہوئے کہ لیکھرام آپ کو سلام کرنے کے لئے آیا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کی طرف ذرا بھی توجہ نہ کی اور جب یہ سمجھ کر کہ شاید آپ نے دیکھا نہیں کہ پنڈت لیکھرام صاحب سلام کر رہے ہیں آپ کو اس طرف توجہ دلائی گئی تو آپ نے بڑے جوش سے فرمایا کہ اسے شرم نہیں آتی کہ میرے آقا کو توگالیاں دیتا ہے اور مجھےآکر سلام کر تا ہے۔گویا آپ نے اس بات کی ذرا بھی پَروا نہ کی کہ لیکھرام آیا ہے لیکن عام لوگوں کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ کسی بڑے رئیس یا لیڈر سے اُن کو ملنے کا اتفاق ہو جائے۔چنانچہ جب کوئی ایسا شخص اُن کے پاس آتا ہے وہ بڑی توجہ سے اُس سے ملتے ہیں لیکن اگر کوئی غریب شخص آ جائے تو پروا بھی نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ معترضین کو اُن کے اسی نقص کی طرف توجہ دلاتا ہے اور بتاتا ہے کہ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ يَسْعٰى۔وَ هُوَ يَخْشٰى۔فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰى۔تمہاری اپنی حالت یہ ہے کہ جو شخص تمہارے پاس دوڑتا ہوا آئے اور ساتھ ہی وہ اللہ تعالیٰ کی خشیت بھی اپنے دل میں رکھتا ہو لیکن امارت اس میں نہ ہو تم اُس سے غافل رہتے ہو۔پس وہ لوگ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اُن کو زجر کیا ہے کہ تم ہمارے رسول پر کیا اعتراض کرتے ہو جائو اور اپنے اخلاق کو دیکھو۔تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی بڑا آدمی آ جائے تو تم اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے ہو۔اس کی طرف تم اپنی تمام توجہ صرف کر دیتے ہو لیکن اگر کوئی مسکین اور غریب آدمی آ جائے تو تُم اس سے منہ پھیر لیتے ہو اور اُس سے بات تک کرنا گوارا نہیں کرتے۔تمہارا اعتراض آخر کیا ہے یہی کہ عبداللہ بن ام مکتوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ نے اس کی طرف توجہ نہ کی حالانکہ اُس وقت آپ کا اس کی طرف توجہ نہ کرنا ہی ضروری تھا۔اُس نے مجلس میں آکر ایک نامناسب حرکت کی خلافِ اخلاق حرکت کی۔خلافِ آداب حرکت کی اور وہ یقیناً اسی بات کا مستحق تھا کہ اس کی طرف توجہ نہ کی جاتی مگر تم اس پر اعتراض کر رہے ہو اور تم یہ نہیں دیکھتے کہ ایک جائز فعل پر تو اعتراض کر رہے ہواور تمہاری اپنی حالت یہ ہے کہ تم امیروں کی