تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 227

میں بھی اپنا یہی طریق عمل رکھا۔چنانچہ بخاری میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا حضور اُس وقت مجلس میںگفتگو فرما رہے تھے اُس نے آپ کے کلام میںدخل دیتے ہوئے ایک سوال کیا مگر آپ نے اُس کا جواب نہیں دیا اور اپنی بات میں ہی مشغول رہے یہاں تک کہ صحابہ کہتے ہیں ہم نے سمجھا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم شاید خفا ہو گئے ہیں۔جب آپ بات ختم کر چکے تو آپ نے فرمایا کہ سائل کہاں ہے؟ اور پھر آپ نے اُس کے سوال کا جواب دیا (بخاری کتاب العلم باب منْ سُئِلَ عِلْمًا وَھُوْ مُشْتَغِلاً فِی حَدِیْثِہٖ فاتّم الحدیث ثم اجاب السائل) گویا وہ طریق جو ابن ام مکتوم کے واقعہ کے وقت آپ نے اختیار کیا تھا وہی طریق آپ نےبعد میں بھی جاری رکھا اور جب بھی کسی شخص نے آپ کی گفتگو کے دوران میں دخل دے کر آپ سے کوئی سوال کرنا چاہا آپ نے کبھی اس کا جواب نہیں دیا جب تک اپنی بات کوختم نہیں کر لیا۔اور یہ طریق وہ ہے جو نہ صرف مکّہ مکرمہ میں بلکہ مدینہ منورہ میں بھی آپ نے جاری رکھا۔بلکہ جیسا کہ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے آپ کا عام طریق ہی یہ تھا کہ جب تک بات ختم نہ کر لیتے کسی دوسرے شخص کے سوال کا جواب نہ دیتے اور یہی شرفاء کا طریق ہے۔پس اگر واقعہ میں یہ توبیخ ہوتی تو پھر چاہیے تھا کہ اِن آیات کے نزول کے بعد رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بھی کوئی شخص بات کرتا اور جس حالت میں بھی کرتا آپ فوراً اس کا جواب دینا شروع کر دیتے اور سمجھتے کہ میں اُس غلطی کا اعادہ نہ کروں جو ایک دفعہ مجھ سے ہو چکی ہے۔لیکن آپ نے کبھی اپنے طریق کو نہیں بدلا۔اور جب آپ نے وہی رویّہ رکھا جو ابن اُم مکتوم کے واقعہ کے وقت تھا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ توبیخ کس بات پر تھی اور کس بات سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو روکا گیا تھا؟ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا عمل تو ثابت کررہا ہے کہ آپ نے اپنی زندگی کے آخر تک عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى والی بات پر ہی عمل کیا اور جب بھی کوئی شخص آپ کی بات میں دخل دیتا آپ اُسے پسند نہ فرماتے۔کیونکہ تداخل سے تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔اثر جاتا رہتا ہے۔بات پوری نہیں ہوتی اور مضمون کے کئی پہلو ذہن سے نکل جاتے ہیں۔پس اگر اس واقعہ کو درست تسلیم کیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ ڈانٹ بھی پڑی مگر آپ پھر بھی نہ مانے۔میں اِن دلائل کے بیان کرنے سے پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ عبداللہ بن ام مکتوم کے حالات بتاتے ہیں کہ وہ کوئی ذلیل یا حقیر آدمی نہیں تھے۔بیشک وہ اندھے تھے لیکن آخر وہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں سے تھے حضرت خدیجہؓ کے ماموں زاد بھائی تھے اور باپ اور ماں کی طرف سے بھی مشہور خاندانوں میں سے تھے۔اس خاندانی اثر کیو جہ سے اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہؓ کے تعلقات