تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 207
یا رویتِ قلبی کے لحاظ سے مومن بھی اس رویت میں شامل ہو گا اور اُسے کفار کے اس دُکھ اور عذاب کا علم ہو گا جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہےکہ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِمَنْ يَّرٰى کے یہ معنے بھی ہیں کہ جہنم اس شخص کے لئے ظاہر کر دی جائے گی یا اُس شخص کو دکھا دی جائے گی جو اُسے دیکھنے کا مستحق ہے پس اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دنیوی دوزخ کا ہی ذکر ہو رہا ہے کیونکہ اگلا دوزخ تو ہر ایک کو نظر آجائےگا اُس میں ایسی کسی شرط کی ضرورت نہیں ہے۔فَاَمَّا مَنْ طَغٰى ۙ۰۰۳۸وَ اٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاۙ۰۰۳۹ پس جس نے سرکشی اختیار کی اور ورلی زندگی کو (آخرت پر) ترجیح دی تو فَاِنَّ الْجَحِيْمَ هِيَ الْمَاْوٰى ؕ۰۰۴۰ یقیناً جہنم (ہی اس کا) ٹھکانہ ہے۔حَل لُغَات۔اَلْمَاْوٰی۔المَاْوٰی اِسْمٌ لِلْمَکَانِ الَّذِیْ یَاْوِیْ اِلَیْہِ۔پناہ لینے کی جگہ (مفردات) تفسیر۔پس وہ جس نے سرکشی کی اور ورلی زندگی کو اختیار کیا۔اُخروی زندگی کا اُس نے کوئی خیال نہ رکھا وہ اُس دن کو دیکھ لے گا جب جہنم اُس کا ٹھکانہ ہو گی۔ھِیَ الْمَأوٰیسے مراد ھِیَ الْمَأوٰی لَہٗ ہے کہ جہنم اُس کا مَأویٰ یعنی ٹھکانہ ہو گی۔وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ اور جس نے اپنے رب کے درجہ سے خوف کیا اور (اپنے) نفس کو گری ہوئی خواہشوں سے روکا تو یقیناً الْهَوٰى ۙ۰۰۴۱فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى ؕ۰۰۴۲ جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔تفسیر۔خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ کے دو معنے ہیں یہ بھی معنے ہیں کہ وہ اپنے رب کی شان اور رُتبہ سے ڈرتا ہے اور یہ معنے بھی ہیں کہ وہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے۔گویا مَقَامَ رَبِّہٖ کے معنے مَقَامَہٗ اَمَامَ رَبِّہٖ کے بھی ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتے کہ وہ اُس کی شان اور عظمت کا خوف رکھتا ہے۔یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جو