تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 206
شروع ہو جاتے ہیں اور انکار کرنے والے آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔اب جس کی بصیرت ہوتی ہے وہ تو جانتا ہے کہ ایک قوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائید کا ہاتھ کام کرتا نظر آتا ہے اور دوسری قوم اس کی نصرت ومدد سے محروم ہو رہی ہے مگر جسے بصیرتِ روحانی حاصل نہیں ہوتی وہ کہہ دیتا ہے کہ یہ بھی کوئی بڑی بات ہے دنیا میں ہمیشہ قومیں گھٹتی بڑھتی ہیں یہ کوئی معجزہ نہیں کہ ایک قوم بڑھ رہی ہے اور دوسری گھٹ رہی ہے۔گویا ایک قوم کو نظر آرہا ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ جہنم کی طرف جا رہے ہیں مگر انہیں اپنا جہنم نظر ہی نہیں آتا۔اسی طرح یہاں بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِمَنْ يَّرٰى میں دیکھنے سے مراد قلبی رویت بھی لی جا سکتی ہے کہ جس کے اندر بصیرت پائی جاتی ہو گی صرف وہ اس جہنم کو قبل از وقت دیکھ سکے گا۔چنانچہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق تاریخوں میں ذکر آتا ہے کہ آپ جب مکہ فتح کرنے کے لئے تشریف لائے تو اس وقت آپ نے صحابہؓ کو خاص طور پر ہدایت دے دی کہ اس موقعہ پر اپنی کسی شان کا اظہار نہیں کرنا۔بلکہ جب ایک مسلمان افسر نے کہا کہ آج ہم مکّہ کی حرمت کو چاک کر کے رکھ دیں گے اور ان کفار کو بتادیں گے کہ انہوں نے ہم پر جومظالم کئے تھے اُن کا کیاانجام نکلا تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فوراً اُسے اپنے عہدہ سے برطرف کر دیا اور اس کے بیٹے کو اس کی جگہ مقرر کر دیا (السیرۃ النبویۃ جلد۲ مصنّفہ احمد زینی زیر عنوان غزوۃ الفتح الاعظم وھو فتح مکہ شرفھا اللہ تعالیٰ) اس کی یہی وجہ تھی کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے کہ آج کفّار کے لئے جو جہنم پیدا ہو گئی ہے وہ اُن کی طاقتِ برداشت سے بالکل باہر ہے اور آپ چاہتے تھے کہ اُن کی تکلیف کو جتنا بھی ہو سکے کم کیا جائے چنانچہ آپ نے حکم دے دیا کہ جو لوگ اپنے گھروں کے دروازے بند کر کے اندربیٹھ جائیں گے ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا(السیرة النبویۃ لابن ہشام ذکر الاسباب الموجبة المسیر الی مکة و ذکر فتح المکة)۔اس میں بھی دراصل یہی حکمت تھی کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اگر کفار اپنے گھروں سے باہر نکلے اور انہوں نے مسلمانوںکے ایک عظیم الشان لشکر کو مکّہ کی گلیوں میں پھرتے دیکھا تو ان کو سخت تکلیف ہو گی پس آپ نے چاہا کہ ان کے اس عذاب کو جس قدر ہلکا کیا جا سکے ہلکا کر دیا جائے۔اسی لئے آپ نے یہ احکام دئے۔ان معنوں کے لحاظ سے لِمَنْ یَّرٰی میں مومن بھی شامل ہیں لیکن پہلے معنوں کے لحاظ سےلِمَنْ یَّرٰی میںصرف کافر ہی شامل ہیں۔درحقیقت رویت کئی قسم کی ہوتی ہے ایک رویت جسمانی ہوتی ہے۔ایک رویت حسّی ہوتی ہے۔ایک رویت عرفانی ہوتی ہے۔ایک رویت علمی ہوتی ہے۔ایک رویت قلبی ہوتی ہے۔رویتِ حسّی یا رویتِ جسمانی کے لحاظ سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ صرف کافر ہی اس جہنم کو دیکھے گا کیونکہ وہی اس میں پڑنے کا مستحق ہے۔اور رویتِ عرفانی