تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 205
وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِمَنْ يَّرٰى۰۰۳۷ اور جہنم اس کے لئے جو اُسے دیکھے گا ظاہر کر دی جائے گی۔حل لغات۔جَحِیْم۔جَحِیْم جَحَمَ میں سے ہے۔جَحَمَ النَّارَ کے معنے ہیں اَوْ قَدَ ھَا۔آگ کو جلایا اور اَلْجَھِیْمُ کے معنے ہیں اَلنَّارُ الشَّدِیْدَۃُ التَّاَجُّجِ۔سخت بھڑکنے والی آگ۔اَلْمَکَانُ الشَّدِیْدُ الْحَرِّ۔سخت گرمی والی جگہ۔کُلُّ نَارٍ عَظِیْمَۃٍ فِیْ مَھْوَاۃٍ۔ہر بڑی آگ جو گہری جگہ میں جل رہی ہو۔اِسْمٌ مِنْ اَسْمَآئِ جَھَنَّم۔نیز جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے (اقرب) تفسیر۔لِمَنْ یَّریٰ اصل میں لِمَنْ یَّرَاہُ ہے یعنی جہنم اس شخص کے قریب کی جائے گی جو اس کو دیکھے گا اس کے یہ معنے تو نہیں ہو سکتے کہ بیناہی جہنم کا عذاب پائے گا اندھا شخص جہنم میں داخل نہیں کیا جائے گا اور جب اس کا یہ مفہوم نہیں تو لازمًا ہمیں کوئی اور مفہوم لینا پڑے گا۔میرے نزدیک وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِمَنْ يَّرٰىکے دو معنے ہیں۔اوّلؔ یہ کہ جہنّم اس کے قریب کی جائے گی جس نے اُسے دیکھنا ہے یعنی اس میں پڑنے کا مستحق ہے۔مومن اُسے دیکھیں گے بھی نہیں۔آخر جو جہنّم کفّار کو نظر آرہی تھی وہ صحابہؓ کو کس طرح نظر آسکتی تھی وہ اسی میں اپنے لئے جنت دیکھ رہے تھے۔گویا ایک ہی فعل کے نتیجہ میں کفار کو جہنم نظر آرہی تھی اور مومن اپنے لئے جنت دیکھ رہے تھے صحابہؓ جب گھوڑے دوڑاتے ہوئے مکّہ میں پھرتے ہوں گے تو انہیں اس جہنم کا خیال بھی کس طرح آسکتا تھا جس میں کفار مبتلا تھے۔واقعہ ایک ہی تھا مگر کفار کے لئے وہ دوزخ بنا ہوا تھا اور صحابہؓ کے لئے جنت بن رہا تھا پس اس کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ دوزخ اُسی شخص کے قریب کی جائے گی جو اس میں پڑنے کا مستحق ہے دوسرا شخص اُس دوزخ کو نہیں دیکھ سکے گا۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ لِمَنْ یَّرٰی سے مراد قلبی رویت ہے۔ظاہری چیز یںایسی ہوتی ہے جن کو ہر شخص دیکھ سکتا ہے مثلاً آگ ہے جب جل رہی ہو تو کسی شخص کے اندر بصیرت کا مادہ ہو یا نہ ہو وہ اُسے دیکھ لے گا لیکن روحانی جہنم بسا اوقات موجود تو ہوتی ہے مگر نظر نہیں آتی۔پس اس صورت میں دنیوی لحاظ سے لِمَنْ یَّریٰ کے یہ معنے ہوں گے کہ جہنم جس کی آنکھیں ہوں گی اُسے نظر آجائے گی اور جس کی آنکھیں نہیں ہوں گی اُسے نظر نہیں آئے گی۔کیونکہ یہ وہ جہنم ہے جس کے دیکھنے کے لئے بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے گویا اس رویت سے مراد ظاہری رویت نہیں بلکہ قلبی رویت ہو گی۔مثلاً جب اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو بھیجتا ہے تو اُن کے آنے پر ایمان لانے والے آہستہ آہستہ بڑھنا